Sep ۲۸, ۲۰۲۰ ۲۲:۰۲ Asia/Tehran
  • امریکا کا دعوی، ہندوستان کے 44 بینک مشکوک  ٹرانزیکشن میں ملوث ہیں

امریکی بینکوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے 44 بینک ایسے ہیں جو ہندوستانی ادارے اور شخصیات کی جانب سے اربوں روپیے کے مشکوک ٹرانزیکشن میں ملوث ہیں۔

امریکی بینکوں نے اس کی شکایت فائنینشئل کرائمز انفورسمینٹ نیٹ ورک سے کی ہے۔

انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی پتہ رکھنے والی پارٹیوں کے ریکارڈ کے ایک سیٹ کے مطابق مشکوک سرگرمیوں کی رپورٹ میں ہندوستانی بینک 2011 سے 2017 کے درمیان ایک ارب روپے سے زیادہ رقم کے 2 ہزار ٹرانزیکشن کے معاملے میں ملوث تھے۔

انسٹاگرام پر آپ ہمیں فالو کر سکتے ہیں

اہم بات یہ ہے کہ ہندوستانی ادارے اور تاجروں سے وابستہ ہزاروں ٹرانزیکشن ہیں جن میں رقم کو منتقل کرنے والے یا وصول کرنے والے ہندوستانیوں کے پتے ملک کے باہر کے ہیں۔

ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ اس مسئلے میں شامل بینکوں میں سرکاری بینک جیسے پنجاب نیشنل بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، بینک آف بڑودا، یونین بینک آف انڈیا اور کینرا بینک شامل ہیں جبکہ پرائیویٹ بینکوں میں ایچ ڈی ایف سی، آئی سی آئی سی آئی، کوٹک مہندرا اور ایکسس بینک جیسے بینک شامل ہیں۔

 

 

ٹیگس