Feb ۱۹, ۲۰۱۶ ۱۸:۰۹ Asia/Tehran
  • شام میں ممنوعہ فضائی علاقے کے قیام کی مخالفت

اسلامی جمہوریہ ایران اور روس نے شام میں ممنوعہ فضائی علاقے کے قیام بارے میں بعض ملکوں کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سابقہ غلطیوں کی تکرار قرار دیا ہے -

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے جمعے کو ہمارے نمائندے سے گفتگو کے دوران کہا کہ شام کا بحران، کہ جس کی وجہ سے پورے علاقے کی سیکورٹی متاثر ہوئی ہے، صرف سیاسی طریقے سے ہی حل کیا جاسکتاہے -

انہوں نے ان  ملکوں پر تنقید کی جو شام کی حمایت میں ہونےوالے بین الاقوامی مذاکرات کی میزپر تو حاضر ہوتے ہیں لیکن مذاکرات کی میز سے ہٹ کر فوجی طریقے کے استعمال کی باتیں کرتے ہیں -

انہوں نے کہا کہ شام میں ممنوعہ فضائی علاقے کے قیام کی باتوں کی تکرار سے علاقے میں امن و استحکام قائم کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی -

ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہاکہ شام میں بحران کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ شام کے پڑوسی ملکوں کی سرحدوں پر نگرانی سخت کی جائے اور دہشت گردوں کو ان سرحدوں سے شام میں داخل نہ ہونے دیا جائے -

ان کا کہنا تھا کہ ایران شام میں ان علاقوں کو چھوڑ کرجو دہشت گردوں کے قبضے میں ہیں سبھی علاقوں میں جنگ بندی اور عام شہریوں کے لئے انسان دوستانہ امداد کی ترسیل کی حمایت کرتاہے -

انہوں نے کہا کہ ایران کا موقف ہے کہ شام کے بحران کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی اقوام متحدہ کی کوششوں کے تحت شام کی حکومت اور شام کے ہی ان مخالف گروہوں کے درمیان جو سیاسی مفاہمت پر یقین رکھتے ہیں مذاکرات کا عمل ہر حال میں جاری رہنا چـاہئے -

ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر علاقے خاص طور پر شام، یمن اور عراق میں دہشت گردوں کو استعمال کرنے کی غلط روشوں کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو علاقے کی سلامتی اور استحکام کو پہلے سے بھی زیادہ نقصان پہنچے گا -

انہوں نے یمن پر سعودی عرب کے ہوائی حملوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ایک عرب ملک کا دوسرے عرب ملک پر حملہ اور ایک اسلامی ملک کے عام شہریوں پر ایک اسلامی ملک کا حملہ علاقے میں ایک اور خطرناک غلطی کی تکرار ہے -

انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ یمن میں انسانی المئے کوروکنے کے لئے سیاسی راہ حل تلاش کی جائے اور یمن کے عوام کو اس بات کی اجازت دی جائے کہ وہ اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کریں-

ان کا کہنا تھاکہ یمن کے سیاسی عمل میں سبھی یمنی گروہوں کو شامل کیا جائے تاکہ اس ملک میں صحیح معنوں میں جمہوریت قائم ہوسکے-

دوسری جانب روس نے بھی شام میں ممنوعہ فضائی علاقے کےقیام کی باتوں کو بے معنی قرار دیا ہے -

اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب ویتالی چورکین نے روسی ریڈیو کو دئے گئے اپنے انٹرویو میں کہاکہ ایک ایسے وقت جب سبھی ملکوں کے جنگی طیارے شام کی فضائی حدود میں پرواز کررہے ہیں وہاں ممنوعہ فضائی علاقے کے قیام کی باتیں کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہوتا -

روسی مندوب کا یہ بیان جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایک بار پھر شام کے شمالی علاقوں میں ممنوعہ فضائی علاقہ قائم کرنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے -

جرمن چانسلر نے شام کے شمالی علاقوں میں جہاں دہشت گردوں کے اڈے ہیں روسی فضائیہ کے حملوں کی مذمت بھی کی ہے - ترکی نے بھی شام میں ممنوعہ فضائی علاقے کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔

ٹیگس

کمنٹس