تہران کے خطیب جمعہ نے کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین، اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی میں سرفہرست ہے اور یہ مسئلہ عالم اسلام کا بھی سب سے اہم مسئلہ ہے۔

تہران کے خطیب جمعہ آیت اللہ موحدی کرمانی نے نمازجمعہ کے خطبوں میں تہران میں انتفاضہ فلسطین کی حمایت میں ہونے والی چھٹی عالمی کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ دین اسلام میں مسلمانوں اور مسلمانوں کی سرزمینوں پر کفار کا تسلط حرام ہے، اسی لئے فلسطینی عوام کی حمایت اور صیہونی حکومت کی غاصبانہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کا موضوع، اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی میں سرفہرست ہے-

تہران کے خطیب جمعہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران کا قومی مفاد بھی علاقے میں مسئلہ فلسطین سے وابستہ ہے، کہا کہ فلسطینی عوام پر صیہونی حکومت کے مظالم، فلسطینیوں کا قتل عام اور انہیں ان کے گھروں سے در بدر کئے جانے کے ہولناک واقعات، کبھی فراموش نہیں کئے جاسکتے-

انہوں نے سرزمین فلسطین میں غاصب صیہونی حکومت کے قیام کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک غاصب یہودی اور صیہونی حکومت کی تشکیل کا منصوبہ، برطانیہ نے تیار کیا تھا اور اس کے بعد امریکا اور بعض دیگر مغربی ملکوں نے اس کی حمایت کی-

تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ مشرق وسطی جیسے حساس علاقے میں ناجائز صیہونی حکومت کے قیام کا مقصد، علاقے کی اسلامی حکومتوں کو کمزور کرنا تھا- ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور برطانیہ نے بعض دیگر مغربی ملکوں کے ساتھ مل کرعلاقے کے قدرتی وسائل اور تیل کے ذخائر پر قبضہ جمانے کے لئے اسلامی ملکوں کے قلب میں ایک سرطانی پھوڑے کی طرح صیہونی حکومت کو قائم کیا-

تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ یورپ میں  ایرانو فوبیا،  اسلامو فوبیا اور پیمغبر اسلام صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی، امریکا اور مغرب میں صیہونی لابی کے اثرورسوخ کا ہی نتیجہ ہے-

ان کا کہنا تھا کہ علاقے کے بعض عرب اور  بعض مغربی ملکوں کے دباؤ کے باوجود فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک پوری قوت کے ساتھ صیہونی غاصبوں کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے اور جلد ہی یہ غاصب حکومت اور اس کے حامی، اسلامی مزاحمتی تحریکوں سے مغلوب اور مرعوب ہو جائیں گے اور صیہونی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا-   

Feb ۲۴, ۲۰۱۷ ۱۰:۳۵ UTC
کمنٹس