• ایران مخالف امریکی پابندیوں کا نتیجہ الٹا نکلے گا، وزیرخارجہ محمد جواد ظریف

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ تہران کے خلاف امریکی پابندیوں کا الٹا نتیجہ نکلےگا۔

 ایرانی وزیرخارجہ نے المیادین ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکا کی مسلط کی گئیں پابندیاں بے سود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جو چیز اس بات کا سبب بنی کہ امریکا پانچ جمع ایک گروپ میں شامل ہو کر ایران سے مذاکرات کرے وہ یہ نہیں تھی کہ واشنگٹن ایران کے وعدوں کو پرکھنا چاہتا تھا بلکہ باراک اوباما کے دور میں امریکا اپنے تمام آپشنزکو آزما چکا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی پابندیوں کا نہ صرف یہ کہ ایران کے معیشت پر کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ سیاسی میدان میں بھی یہ پابندیاں بے اثر ثابت ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کے بعد ایران نے اپنے پرامن ایٹمی پروگرام میں کو اور تقویت پہنچائی ہے۔

وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے صیہونی حکومت کو علاقے اور دنیا کے لئے سب سے بڑا ایٹمی خطرہ قراردیتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکومت نے فلسطینیوں کے حقوق کو پامال کرنے والی اور دنیا کے لئے سب سے بڑے ایٹمی خطرے والی حکومت کے طور پر اب تک علاقے کی اقوام منجملہ لبنان، فلسطین، اردن ، شام اور حتی مصر کے عوام کے خلاف بے شمار جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں ترکی کو ایران کا ایک اہم ہمسایہ ملک قراردیتے ہوئے کہا کہ ترکی علاقے اور مشرق وسطی میں ایک اہم اور موثر ملک ہے اور اس کو چاہئے کہ وہ شام میں دہشت گردوں کے لئے اسلحے اور مالی ذرائع پہنچنے کے راستوں کو بند کرے اور انقرہ کا یہ اقدام ایک مرکزی رول کی حیثیت کا حامل ہوسکتاہے۔

ایرانی وزیرخارجہ نے ترکی کے ساتھ تمام میدانوں خاص طور پر اقتصادی شعبے میں دوطرفہ تعلقات کی توسیع کے لئے ایران کی آمادگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کے ساتھ ایران کے تجارتی ٹرانزٹ اور اقتصادی شعبوں میں بہت ہی اچھے تعلقات ہیں۔   

Mar ۱۶, ۲۰۱۷ ۱۲:۱۶ UTC
کمنٹس