اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے نئے ہجری شمسی سال اور عید نوروز کی آمد کی مناسبت سے اپنے الگ الگ تہنیتی پیغامات میں نوروز منانے والے قدیم ایشیائی خطے میں امن و اتحاد کو اس علاقے کی اقوام کی خواہش قرار دیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے افغانستان، تاجیکستان، آذربائیجان، ترکمنستان، آرمینیا، قزاقستان، قرقیزستان، ازبکستان، ترکی، پاکستان اور ہندوستان کے سربراہان مملکت کے نام عید نوروز اور نئے ہجری شمسی سال کی آمد کی مناسبت سے اپنے پیغامات میں مبارکباد پیش کی ہے-

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے علاقے کے، ان گیارہ ملکوں کے سربراہان مملکت کے نام کہ جہاں عید نوروز منائی جاتی ہے، اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ نوروز بہار اور  نیچر کا انتہائی خوبصورت جشن ہے جو موسم سرما کے بعد بہار، امید اور سرسبز وشاداب ماحول کے ساتھ نمودار ہوتا ہے-

انہوں نے کہا کہ نوروز کے قدیم علاقے میں صلح اور اتحاد ہی اس خطے کی معتدل فطرت کی حامل اقوام کی خواہش رہی ہے- صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ دنیا، آج ہر دور سے زیادہ امید اور حوصلے کی محتاج ہے تاکہ اس امید و حوصلے کے سائے میں محبت و عشق اور دوستی کا زیادہ سے زیادہ رواج ہو اور مختلف ممالک تصادم کے بجائے دوستی اور تعاون کے راستے پر گامزن رہیں-

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ قومیں، امید، صلح اور امن و استحکام سے تمسک اختیار کر کے آپسی اتحاد اور تعاون کے زیرسایہ انتہاپسندانہ سوچ اور کج فکری کے نتیجے میں وجود میں آنے والی دہشت گردی کا مقابلہ کر سکتی ہیں-

صدر مملکت نے اپنے ان پیغامات میں، ان گیارہ  ملکوں کے سربراہوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہ جہاں جشن نوروز منایا جاتا ہے، کہا کہ ہم آپ سب کے لئے خوشیوں اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں-

 

Mar ۲۰, ۲۰۱۷ ۰۹:۰۸ UTC
کمنٹس