ایران کے محکمہ ایٹمی توانائی کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ جامع ایٹمی معاہدے نے امریکہ کو اسٹریٹیجک بے بسی سے دوچار کر دیا۔

شمال مشرقی ایران کے شہر مشھد مقدس میں، بیرون ملک مقیم ایرانی دانشوروں اور طلبہ کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر علی اکبر صالحی نے کہا کہ امریکہ ایٹمی معاہدے سے چنداں راضی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر جامع ایٹمی معاہدے نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو روک دیا ہوتا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل اس معاہدے پر اتنے چراغ پا نہ ہوتے۔
ڈاکٹر علی اکبر صالحی کا کہنا تھا کہ ایران نے پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ مذاکرات میں، چھے ہزار سینٹری فیوج مشینوں کو فعال رکھنے اور مستقبل میں ان کی تعداد ایک ہزار تک لے جانے کی بات منوالی ہے۔
ایران کے محکمہ ایٹمی توانائی کے سربراہ نے کہا کہ جامع ایٹمی معاہدے میں ایٹمی تحقیق و ترقی اور ری ایکٹروں کی تیاری جیسے معاملات میں ایران کے حق کو تسلیم کر لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں دو ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر اور سو ارب ڈالر کے ایک جوہری منصوبے پر دستخط کیے جا چکے ہیں۔
ایران اور پانچ جمع ایک گروپ نے چودہ جولائی دو ہزار پندرہ کو مشترکہ جامع ایکشن پلان کے نام سے ایٹمی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس پر سولہ جنوری دو ہزار سولہ سے عملدآمد شروع کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ امریکہ، روس، فرانس، برطانیہ، چین اور جرمنی پانچ جمع ایک گروپ کے رکن ممالک ہیں۔

Jul ۱۶, ۲۰۱۷ ۱۳:۳۵ UTC
کمنٹس