• امریکہ کو ایران کا انتباہ

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف پابندی لگانے اور نظام بدلنے کی امریکی پالیسی کارآمد نہیں ہوگی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکی خارجہ تعلقات کونسل کے تھنک ٹینک کے خصوصی اجلاس میں امریکی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں کو چاہئے کہ مداخلت پر مبنی اپنے بیانات سے باہر نکل کر اس حقیقت کو جان لیں کہ ایران کے خلاف پابندیاں لگانے یا نظام بدلنے کی پالیسیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا.

اس موقع پرانہوں نے کہا کہ امریکہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے ایران میں نظام بدلنے کے لئے اقدامات کررہا ہے مگرایرانی عوام نے حالیہ صدارتی انتخابات میں بڑی بڑی قطاروں میں 10 گھنٹے سے بھی زائد کھڑے ہو کرووٹ دئیے۔

وزیر خارجہ نے کہاکہ علاقے میں ایران کی طرح جمہوریت کسی بھی دوسرے ملک میں نہیں ہے۔

محمد جواد ظریف نے ایران کے پر امن جوہری پروگرام کے خلاف امریکی پابندیوں کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو چاہئیے کہ وہ اس قسم کی پابندیوں کے بارے میں اپنی پالیسی کو تبدیل کرے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ نے جب ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے خلاف پابندیاں عائد کیں تو اس وقت ایران کے پاس صرف 200 سینٹری فیوجز تھے لیکن پابندیوں کے بعد ان کی تعداد 20 ہزار ہو گئی۔

محمد جواد ظریف نے کہا کہ کیا ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے کے خلاف حالت جنگ میں رہیں اس لئے کہ ایسے اقدامات سے کسی فریق کو فائدہ نہیں پہنچے گا تاہم ان کا کہنا تھا کہ  یمن میں جنگ بندی کے نفاذ سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کے لئے راہ ہموار ہوجائے گی.

اس سے قبل اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے دورہ نیو یارک کے موقع پر امریکی جریدے نیشنل انٹرسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے جوہری معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے امریکی خلاف ورزیوں کے ردعمل میں کہا کہ ایران، جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے.

انہوں نے کہا کہ ایران  نے اپنے وعدوں پر من و عن عمل کیا ہے اور جوہری معاہدے کے حوالے سے ہونے والی خلاف ورزیوں کو مشترکہ کمیشن میں بھی اٹھایا ہے اور آئندہ بھی ایسی خلاف ورزیوں کے خلاف نوٹس لیں گے.

محمد جواد ظریف نے مزید کہا کہ ہمارا اصل مقصد امریکی کوتاہیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے موثر حکمت عملی اپنانے کو یقینی بنانا ہے.

انہوں نے کہا کہ اگر دانستہ طور پر جوہری معاہدے کے نفاذ کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے تو اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کے لئے فارمولہ موجود ہے.

 

Jul ۱۸, ۲۰۱۷ ۰۶:۵۷ UTC
کمنٹس