• صدر ایران جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس دنیا کے کانوں تک ایرانی عوام کی آواز پہنچانے نیز امریکہ اور مغربی ملکوں کی رائے عامہ کے ذہنوں میں پائے جانے والے شبہات کو دور کرنے کا بہترین موقع ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانگی سے قبل تہران ایئر پورٹ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر حسن روحانی نے کہا کہ وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے علاوہ امریکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں، سیاستدانوں، تھنک ٹینک کے ارکان، امریکہ کے مسلم رہنماؤں اور امریکہ میں مقیم ایرانی شہریوں سے ملاقات اور ایران کے موقف کی وضاحت کریں گے۔
صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ وہ نیویارک میں اپنے قیام کے دوران بیلجیئم، سوئیڈن، آسٹریا، فرانس، برطانیہ، جاپان، پاکستان، جنوبی افریقہ اور بولیویا کے رہنماؤں سے ملاقات میں علاقائی مسائل، جامع ایٹمی معاہدے اور میانمار میں مسلمانوں کا قتل عام رکوانے کے معاملے پر بات چیت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسلامی تعاون تنظیم کے رابطہ گروپ کا بھی اجلاس منعقد ہوگا جس میں روہنگیا مسلمانوں کی صورتحال اور امداد رسانی کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
صدر ایران نے ایک بار پھر تہران کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ جامع ایٹمی معاہدہ علاقائی اور عالمی سلامتی و استحکام اور خطے کی ترقی کے لیے سود مند ہے جبکہ اس کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد انگشت شمار ہے۔
ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران کے خلاف مغرب اور خاص طور پر امریکہ کی جانب سے کئے جانے منفی پروپیگنڈے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ملکوں اور خاص طور سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف پروپیگنڈے حقائق کے سراسر منافی ہے اور جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وہ ایران کے موقف اور پالیسیوں کی وضاحت کریں گے۔
صدر ایران نے یہ بات زور دے کر کہی کہ تہران دنیا کے ساتھ وسیع اور تعمیر تعلقات کا خواہاں ہے۔
انہوں نے بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ علاقائی بحرانوں کو فوجی طریقے سے حل نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان کا حل سیاسی عمل اور سفارت کاری میں مضمر ہے۔
صدر ایران ایک بار پھر یہ بات زور دے کر کہی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے دنیا کے تمام ملکوں کے درمیان ہمہ گیر تعاون کی ضرورت ہے۔
صدر حسن روحانی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے بہترویں اجلاس میں شرکت کے لیے اتوار کی صبح تہران سے نیویارک کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔

Sep ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۱:۴۷ UTC
کمنٹس