• امریکہ جامع ایٹمی معاہدے کا شیرازہ بکھیر رہا ہے۔ لاریجانی

مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے امریکی ایوان نمائندگان کے ایران مخالف بل کو جامع ایٹمی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان نے تیرہ ستمبر کو ایک بل کی منظوری دی تھی جس میں ایران کو مسافر بردار طیاروں کی فروخت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ امریکی وزارت خزانہ نے بھی اپنے ایک اقدام کے ذریعے دو ایرانی کمپنیوں اور سات شہریوں کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا ہے۔ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے امریکی اقدام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر جامع ایٹمی معاہدے کی پابندی نہ کرنے کا الزام عائد کرنے والے امریکی عہدیدار اس معاہدے کا شیرازہ بکھیرنے میں لگے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ نے جامع ایٹمی معاہدے کو توڑا تو ایران بڑی تیزی کے ساتھ معاہدے سے پہلے والی پوزیشن پر واپس لوٹ جائے گا۔دوسری جانب عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ جامع ایٹمی معاہدے کے حوالے سے امریکہ کا رویہ غیر منطقی ہے جبکہ عالمی اداروں کی رپورٹوں میں واضح کیا گیا کہ ایران جامع ایٹمی معاہدے کی مکمل پابندی کر رہا ہے۔انہوں نے ایک بار پھر ایران کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ جامع ایٹمی معاہدہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے دو طرفہ معاہدہ نہیں بلکہ یہ ایک عالمی معاہدہ ہے۔درایں اثنا یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج فیڈریکا موگرینی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ جامع ایٹمی معاہدہ ایک عالمی معاہدہ ہے جس میں ایک فریق عالمی برادری ہے جبکہ ایران دوسرا فریق ہے۔

Sep ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۵:۵۵ UTC
کمنٹس