• افغانستان کی مساجد پر دہشت گردانہ حملے، ایران کی جانب سے مذمت

اسلامی جمہوریہ ایران نے افغانستان کے شہروں کابل اور غور کی مساجد پر دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے افغانستان کے شہروں کابل اور غور کی مساجد میں انتہائی ہولناک اور خونریز دہشت گردانہ حملوں میں شہید ہونے والوں کے لواحقین، افغان عوام اور حکومت سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خون آشام اور جاہل تکفیری دہشت گردوں نے، کہ جن کا انسانیت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے، ایک بار پھر افغانستان کے مظلوم و ستم رسیدہ عوام کو اپنے اندھادھند اور سفاکانہ حملوں کا نشانہ بنایا ہے-

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد صرف مذہبی اختلافات کو ہوا دینا اور پڑوسی ملکوں میں بدامنی پھیلا نا ہے-

بہرام قاسمی نے کہا کہ افغانستان میں بدامنی اور دہشت گردی کے خاتمے تک اسلامی جمہوریہ ایران افغان عوام اور حکومت کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا-

دوسری جانب جمعے کو کابل اور غور میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری کہ جن میں بہتّر افغان شہری شہید ہو گئے، داعش نے قبول کی ہے-

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے اعلان کیا ہے کہ جمعے کی رات ایک دہشت گرد نے مغربی کابل کی مسجد امام زمانہ میں خودکش دھماکہ کر دیا جس میں کم سے کم انتالیس نمازی شہید ہو گئے جبکہ غور میں بھی ایک خودکش دہشت گرد نے اسی وقت ایک مسجد میں دھماکہ کر دیا جس میں تینتیس نمازی شہید ہوئے-

پچھلے مہینوں کے دوران افغانستان کے مختلف علاقوں میں نہتے اور بے گناہ شہریوں اور ساتھ ہی سیکورٹی فورس کے مراکز پر دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے-

رواں ہفتے قندھار میں بھی دہشت گردوں نے ایک فوجی کیمپ پر حملہ کر کے دسیوں افغان فوجیوں کو ہلاک اور دوسو دیگر کو زخمی کر دیا تھا-

اس سے پہلے منگل کو بھی افغانستان کے جنوب مشرقی صوبہ پکتیا میں پولیس کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گردانہ حملے میں چالیس پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ قندھار اور پکتیا حملوں کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی-

 

Oct ۲۱, ۲۰۱۷ ۰۹:۵۴ UTC
کمنٹس