• ایران عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، ترجمان وزارت خارجہ

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ دیگر ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنا اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول ہے اور تہران اس اصول پر پوری طرح کاربند ہے۔

پیر کے روز تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی کا کہنا تھا کہ ایران شروع ہی سے لبنان میں امن و استحکام کا خواہاں رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری کے استعفے کا معاملہ لبنان کا اندرونی معاملہ ہے۔
ایران کے خلاف عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس بلانے کی سعودی درخواست پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے ایران مخالف اقدامات کوئی نئی بات نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آل سعود حکومت اپنی اندرونی اور بیرونی مشکلات اور پے در پے شکستوں کے بعد علاقائی سطح پر ایران مخالف ماحول تیار کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ خطے میں پچھلے ایک سال کے واقعات سعودی پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قاہرہ میں ہونے والے عرب لیگ کے مجوزہ اجلاس کا نتیجہ سعودی عرب کے حق میں برآمد ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیوں کہ خطے کے ممالک بھی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے لبنان میں پراکسی وار شروع کرنے کی غرض سے سعودی عرب کے حالیہ اقدامات کے بارے میں کہا کہ اگرچہ مفروضوں کی بنیاد پر موقف اختیار نہیں کیا جاسکتا لیکن دیگر ملکوں کے معاملات میں مداخلت نہ کرنا ایران کی بنیادی پالیسی ہے اور ایران مذاکرات اور گفتگو پر زور دیتا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے برطانوی وزیر خارجہ کے مجوزہ دورہ ایران کے بارے میں کہا کہ اس حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان صلاح و مشورے کا عمل جاری ہے اور توقع ہے کہ رواں سال کے اختتام پر وزیر خارجہ بوریس جانسن تہران آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ فرانس کے صدر امانوئیل میکرون کے دورہ ایران کے بارے میں تہران اور پیرس کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے تاہم اس کی حتمی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
بہرام قاسمی نے ایران کے میزائیل پروگرام کے بارے میں فرانسیسی صدر کے تازہ موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی حکام کو خطے کے مسائل کے بارے میں سوچ سمجھ کر بیان دینا چاہیے کیوں کے بعض قوتیں تہران پیرس تعلقات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے شام میں داعش کی شکست کے بعد ایران کے کردار کے بارے میں کہا کہ شام میں ایران کی موجودگی شامی حکومت کی درخواست کے مطابق ہے اور داعش کی شکست کے بعد بھی ایران شام کے ساتھ تعاون کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کر چکا ہے تاہم اس کی نوعیت میں فرق میں ہو گا۔

Nov ۱۳, ۲۰۱۷ ۱۶:۱۹ UTC
کمنٹس