• یمن کا بحران اور ظریف کا اقوام متحدہ کے نام خط

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنٹونیو گوٹیرس کے نام ایک خط میں سعودی جارحیت کی وجہ سے یمن کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے اس خط میں کہا ہے کہ یمن پر سعودی جارحیت کو 30 مہینے ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے اب تک ہزاروں یمنی شہید اور زخمی ہوئے ہیں جن میں بچے اورعورتیں بھی شامل ہیں۔ سعودی جارحیت کی وجہ سے یمن کی بنیادی تنصیبات تباہ ہو گئیں اور ہسپتالوں، اسکولوں، فیکٹریوں، بجلی گھروں اور سڑکوں کو بری طرح نقصان پہنچا جس کی وجہ سے یمنی عوام اپنی بنیادی ترین ضرورتوں سے محروم ہو گئے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ نے سعودی عرب کی جانب سے یمن کے محاصرے سے اس ملک میں انسانی المیہ رونما ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئےعالمی اداروں سے کہا کہ وہ اس  یک طرفہ جنگ کو ختم کرانے کے لئے بھر پور کردار ادا کریں۔

محمد جواد ظریف نے اپنے اس خط میں کہا کہ ایران کا شروع دن سے یہ کہنا ہے کہ یمن کے بحران کا حل سیاسی طریقے اور مذاکرات نیز تمام سیاسی جماعتوں کی شرکت سے ایک قومی حکومت کی تشکیل کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک کو چاہیے کہ وہ یمن کے داخلی امور میں مداخلت نہ کریں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکہ کی ایماء پر مارچ دو ہزار پندرہ سے مغربی ایشیا کے غریب ترین اسلامی ملک یمن کو جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے جس کا مقصد اس ملک میں اپنی کٹھ پتلی حکومت کو بحال کرنا ہے۔

یمن پر سعودی جارحیت کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد شہید، زخمی اور لاکھوں بے گھر اور متاثر ہوچکے ہیں۔

 

 

Nov ۱۴, ۲۰۱۷ ۰۷:۱۲ UTC
کمنٹس