Nov ۲۲, ۲۰۱۷ ۱۴:۳۱ Asia/Tehran
  • شام کے مستقبل کا فیصلہ شامی عوام ہی کریں گے۔ صدر ایران

صدرمملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ شام اور عراق میں دہشت گردی کی بنیادیں ہل گئی ہیں اور ایران خطے سے دہشت گردی کی بیخ کنی کرکے دم لے گا۔

ایران، روس اورترکی پر مشتمل سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے تہران سے روس کے ساحلی شہر سوچی کے لئے روانہ ہونے سے قبل، صحافیوں سےبات چیت کرتے ہوئے صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کے بر خلاف ایران خطے میں کشیدگی کا خواہاں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی حکومت اور عوام خطے کی بھلائی اور استحکام کے خواہاں ہیں اور کسی سے محاذ آرائی کے بجائے خطے کے ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے واضح کیا کہ ایران شروع ہی سے کہتا آیا ہے کہ جغرافیائی سرحدوں میں تبدیلی کے لیے دہشت گردی کا بطور ہتھکنڈا استعمال، نیز خطے میں بیرونی طاقتوں خاص طور سے امریکہ اور اسرائیل کی مداخلت کی کوشش کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے مشرق وسطی کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ شروع سے ہی نام نہاد عظیم مشرق وسطی کے منصوبے پر کام کر رہا تھا اور اسرائیل بھی اس منصوبے کی حمایت کررہا تھا  صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے دہشت گرد گروہوں کے خلاف عراق اور شام کی مسلح افواج اور عوامی قوتوں کی استقامت کی جانب اشارہ کرتے ہو‏ئے کہا کہ شام اور عراق کے عوام کی کامیاب جنگ نے سیاسی صورتحال کوبدل کر رکھ دیا اور پچھلے ایک سال کے دوران ایران، روس اور ترکی نے حالات کو بہتر بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر اتفاق کیا۔انہوں نے کہا کہ سوچی اجلاس  اسی تعاون کا تسلسل ہے اور جو اب سربراہان مملکت کی سطح پر انجام پارہا ہے اور اس کا بنیادی مقصد بحران شام کو پائیدار بنیادوں پر حل کرنا ہے۔صدر ایران نے امید ظاہر کی کہ سوچی اجلاس کے شام کی صورتحال پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ شام کے مستقبل کا فیصلہ بیرونی طاقتیں نہیں بلکہ خود شام کے عوام کریں گے۔ صدر مملکت حسن روحانی روس ایران اور ترکی کے سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لئے سوچی پہنچ گئے ہیں

ٹیگس