• ایٹمی معاہدہ کوئی یکطرفہ راستہ نہیں ہے، ایران

ایٹمی توانا‏ئی کی عالمی ایجنسی میں ایران کے مستقل مندوب رضانجفی نےکہا ہے کہ ایٹمی معاہدہ کوئی یکطرفہ راستہ نہیں ہے اورایران ایٹمی معاہدے کی اس وقت تک پابندی کرتا رہے گا جب تک دیگر فریق بھی اس کی پابندی کریں گے۔

آئی اے ای اے میں ایران کےمندوب رضا نجفی نے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں تقریرکرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی معاہدے پرسبھی فریقوں اور خاص طور پر امریکا کو پوری طرح عمل کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ایٹمی معاہدے کے متن کی روح بالخصوص معاہدے کی شق نمبر چھبیس اٹھائیس اور انتیس کے برخلاف اس معاہدے کو ایران کے نقصان میں محدود کرنا چاہتا ہے اور معاہدے پر کامیاب عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی معاہدے میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ ایٹمی معاملے سے مربوط سلامتی کونسل اوراسی طرح دیگر ملکوں کی جانب سے یک جانبہ اور چند جانبہ  پابندیوں کا خاتمہ کیا جائےگا۔
ایرانی مندوب نے کہا کہ پانچ جمع ایک گروپ کے ممالک پر ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کے تعلق سے پوری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے اس اجلاس میں صیہونی حکومت کے نمائندے کے دعوؤں کے جواب میں کہا کہ اسرائیل کے پاس سیکڑوں ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں اور اس نے اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرنے کی بھی ابھی تک اجازت نہیں دی ہے اور ساتھ ہی اس کی ایٹمی تنصیبات سے نکلنے والے تابکاری مواد سے علاقے کے لوگوں میں کینسر کی بیماریاں بھی پیدا ہورہی ہیں ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی تاریخ ہی جارحیت، غاصبانہ قبضے اور نسلی امتیاز پر استوار ہے اور صیہونی حکومت کے جنگی جرائم سے پوری دنیا واقف ہے۔
واضح رہےکہ صیہونی حکومت کے نمائندے نے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں مضحکہ خیز دعوی کرتے ہوئے تہران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا - مختلف رپورٹوں کے مطابق صیہونی حکومت کے پاس تین سو سے زائد ایٹمی وارہیڈز موجود ہیں جو پوری دنیا کو تباہ کرسکتے ہیں۔
اسرائیل نے این پی ٹی معاہدے میں بھی شامل ہونے سے انکار کردیا ہے - یہ ایسی حالت میں ہے کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ڈائریکٹرجنرل یوکیا آمانو نے جمعرات کو ویانا میں بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران نے ایٹمی معاہدے پر پوری طرح عمل کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایجنسی ایٹمی معاہدے پر ایران کی جانب سے عمل درآمد پر بدستور نظر رکھے ہوئے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایجنسی کے معائنہ کاروں نے ایران میں ان تمام جگہوں کا معائنہ کیا ہے جہاں جانے کی ایجنسی نے ضرورت محسوس کی ہے۔

 

Nov ۲۴, ۲۰۱۷ ۱۶:۱۶ UTC
کمنٹس