• صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کریں گے

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی بیت المقدس اور فلسطین کے بارے میں اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کے لیے آئندہ منگل کو ترکی کا دورہ کریں گے۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے ترک ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے فلسطین کی تازہ ترین صورت حال کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ترکی کی تجویز پر استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس بلانے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اجلاس میں بھرپور طریقے سے شرکت کریں گے۔

اسلامی تعاون تنطیم نے رواں ماہ کی بارہ اور تیرہ تاریخ کو استنبول میں سربراہی اجلاس طلب کیا ہے جس میں امریکی صدر کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے توہین آمیز اعلان اور ان کے ممکنہ اثرات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اسلامی تعاون تنظیم نے اپنے ایک بیان میں ٹرمپ کی جانب سے امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کے اعلان کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا، عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور قدس شریف کے بارے میں پائے جانے والے عالمی اتفاق رائے کے منافی قرار دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا فیصلہ نہ صرف مسلمانوں کے تشخص پر حملہ بلکہ عیسائیت کے خلاف بھی حملہ ہے لہذا پوری عالمی برادری کو امریکی صدر کے اس غیر ذمہ دارانہ فیصلے کے خلاف ٹھوس ردعمل ظاہر کرنا چاہیے۔

اسلامی تعاون تنظیم کے بیان میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ بیت المقدس فلسطین کا اٹوٹ حصہ ہے اور ٹرمپ کا غیر قانونی فیصلہ بھی اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو جواز فراہم نہیں کر سکتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شام، عالمی مخالفت کے باجود بیت المقدس کو اسرائیل کی جعلی حکومت کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ کے اس اعلان پر عالمی سطح پر اور خاص طور سے مسلمان ملکوں کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

Dec ۰۷, ۲۰۱۷ ۱۴:۱۳ UTC
کمنٹس