• عالمی وحدت اسلامی کانفرنس کا اختتامی بیان نئی تحریک انتفاضہ پر تاکید

اکتیسویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس نے ایک بیان میں بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر کے حالیہ بیان کی مذمت کی اور بیت المقدس کی اہانت کو روکنے کے سلسلےمیں عالم اسلام کی جانب سے فلسطین کی نئی تحریک انتفاضہ شروع کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

تہران میں منعقدہ اکتیسویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کی اختتامی تقریب میں  جو دنیا کے نوے سے زائد ملکوں کے شیعہ و سنی علما کی شرکت سے منعقد ہوئی اختتامی بیان پڑھا گیا اور بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانے کو بیت المقدس  منتقل کرنے کے امریکی صدر کے اعلان کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔

کانفرنس کے اختتامی بیان میں بیت المقدس کو یہودی رنگ دینے اور مسلمانوں کے مقدس مقامات پر قبضہ کرلینے  کے تعلق سے امریکا کی نئی پالیسی کامقابلہ کرنے کی ضرورت پر زوردیا گیا ہے۔

کانفرنس کے اختتامی بیان میں کہا گیا ہے کہ مقتضائے حال اور معروضی حالات کے مطابق اسلامی تہذیب کے احیاکے لئے عالم اسلام پوری توانائی رکھتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی ممالک متحد ہو کر دشمنوں کی ریشہ دوانیوں کا مقابلہ کریں۔

عالمی وحدت اسلامی کانفرنس کے اختتامی بیان میں دو اہم نکات کی جانب اشارہ کیا گیا ہے پہلا نکتہ یہ ہے کہ عالم اسلام کی توانائیوں کے پیش نظر انسانیت کو مصائب و آلام سے چھٹکارا دلانے کے لئے اسلامی تہذیب کا احیا ضروری ہے اور دوسرا نکتہ جس پر تاکید کی گئی ہے وہ  بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر کے اقدام کا مقابلہ کرنا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیت المقدس کے خلاف تازہ سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئےعالم اسلام کو ایک نئی تحریک انتفاضہ کی ضرورت ہے۔

اس درمیان فلسطینی عوام اور گروہوں نے بیت المقدس کی آزادی کے لئے نئی تحریک انتفاضہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ تجربات سے یہ ثابت ہے کہ فلسطین کی نجات اور سازشوں کو ناکام بنانے کا واحد راستہ استقامت اور مزاحمت ہے۔

 حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ صرف نئی تحریک انتفاضہ کے ہی ذریعے اسرائیلی پالیسیوں کا جنھیں امریکا کی حمایت حاصل ہے مقابلہ کیا جاسکتاہے اور اب فلسطینی عوام ایک نئی تحریک انتفاضہ کے تحت آگے کی سمت قدم بڑھائیں گے۔

Dec ۰۸, ۲۰۱۷ ۰۹:۵۸ UTC
کمنٹس