• ایٹمی معاہدے کو ٹھوس بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے، ایرانی وزیر خارجہ

ایران کے وزیر خارجہ نے ایٹمی معاہدے کے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کا اطمینان حاصل کریں کہ ایٹمی معاہدے کو ٹھوس بنیادوں پر آگے بڑھایا جائےگا۔

ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاؤروف سے بات چیت کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے روس کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی حمایت کی قدر دانی کی۔ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایٹمی معاہدہ ایک ایسی عالمی کامیابی ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اور آئی اے ای نے متعدد بار ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی پابندی کی تصدیق کی ہے۔ایران کے وزیر خارجہ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایٹمی معاہدے کے ایک فریق نے نہ صرف یہ کہ ایٹمی معاہدے پر مکمل طور سے عمل نہیں کیا ہے بلکہ اس نے انتہائی تباہ کن پالیسیاں اپنا رکھی ہیں۔ان کا اشارہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف مخاصمانہ اقدامات اور پابندیوں کی طرف تھا جنہیں ختم کرنے کا وعدہ امریکہ نے ایٹمی معاہدے میں کیا ہے۔مگر ان پابندیوں کو امریکا نے ابھی تک ختم نہیں کیاہے -روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤ روف نے اس موقع پر کہا کہ ان کا ملک ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور یہ بات بھی اہم ہے کہ ایران اس معاہدے کی مکمل پاسداری کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا آمانو نے بھی اب تک کی تمام رپورٹوں میں، ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی پاسداری کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد اور عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکے جانے کے منصوبے کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔سرگئی لاؤروف نے روس اور ایران کے درمیان تعاون کے فروغ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے وزارت خانوں اور قومی سلامتی کے اداروں کے درمیان تعاون اور صلاح و مشورے کا عمل مسلسل جاری ہے-قابل ذکر ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ صلاح و مشورے کے مستقل مکینزم کے تحت بات چیت کی غرض سے بدھ کو ماسکو پہنچے تھے۔ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اپنے دورہ ماسکو کے بعد یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج فیڈریکا موگرینی کی دعوت پر بریسلز بھی گئے ہیں جہاں وہ یورپی عہدیداروں کے ساتھ ملاقات میں جامع ایٹمی معاہدے پر علمدرآمد سے متعلق معاملات کا جائزہ لیں گے۔

Jan ۱۱, ۲۰۱۸ ۱۳:۴۱ Asia/Tehran
کمنٹس