• ایٹمی معاہدے میں تبدیلی کا راستہ بند ہے، ایرانی وزارت خارجہ

اسلامی جمہوریہ ایران نے ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکی صدر کے پالیسی بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدہ ایک معتبر عالمی دستاویز ہے اور اس پردوبارہ مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکی صدر کے پالیسی بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے رسمی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایٹمی معاہدہ ایک معتبر عالمی دستاویز ہے اور اس پردوبارہ مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دوسری جانب وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے ٹوئٹ میں امریکی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ فرسودہ بیانات کے بجائے ایران کے ساتھ ہوئے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کریں۔ایران کی وزارت خارجہ کے جاری کردہ رسمی بیان میں کہا گیا ہے کہ ایٹمی معاہدے میں پایا جانے والا اندرونی استحکام اور اس معاہدے کی عالمی حمایت نے، امریکی صدر، صیہونی حکومت اور جنگ کا نقارہ بجانے والے منحوس اتحاد کی جانب سےایٹمی معاہدے کے خاتمے یا اس میں تبدیلی کا راستہ بند کردیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر، اپنے گزشتہ ایک سال کے رویئے تحت، ایران کے عوام کے خلاف مخاصمانہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں اور تہران کے خلاف دھمکیوں کا اعادہ ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب ان دھمکیوں پر عملدرآمد کے حوالے سے انہیں بارہا ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ نے، امریکی دھمکیوں اور پابندیوں کی فہرست میں نئے عہدیداروں کے اضافے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ، اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی معاہدے کے دیگر فریقوں اور عالمی برادری کے ہمراہ بارہا اعلان کرچکا ہے کہ ایٹمی معاہدہ ایک معتبر عالمی دستاویز ہے اور اس پر دوبارہ مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ایران کی وزارت خارجہ نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی معاہدے سے ہٹ کر کوئی بھی کام قبول نہیں گا، ایٹمی معاہدے میں کسی تبدیلی کو نہ اس وقت قبول کرے گا اور نہ آئندہ قبول کرے گا اور اس بات کی بھی اجازت نہیں دے گا کہ کسی بھی دوسرے معاملے کو ایٹمی معاہدے میں شامل کیا جائے۔ایران کی وزارت خارجہ کے بیان میں آیا ہے کہ حکومت امریکہ بھی دوسرے فریقوں کی طرح ایٹمی معاہدے کے تحت اپنے وعدوں پر عمل کرنے کی پابند ہے اور اگر اس نے بے بنیاد بہانوں کے ذریعے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے شانے جھٹکنے کوشش کی تو اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری بھی اس پر عائد ہوگی۔دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکی صدر کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہیں ہوسکتے اور امریکہ کو اپنے وعدوں پر عمل کرنا ہوگا۔ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیاں اور جمعے کو دیا جانے والا بیان، اقوام متحدہ اور آئی اے ای اے کے حمایت یافتہ، ایک مضبوط اور کثیر فریقی معاہدے کو کمزور کرنے کی مذموم کوشش ہے۔محمد جواد ظریف نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ایٹمی معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہیں ہوسکتے لہذا امریکہ کو گھسے پٹے بیانات دینے کے بجائے، ایران کی طرح جامع ایٹمی معاہدے کے تحت اپنے وعدوں پر عمل کرنا چاہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ایران کے خلاف عائد پابندیوں کی معطلی میں توسیع کے ساتھ ساتھ، مزیدہ چودہ افراد اور اداروں پر پابندیاں اور جامع ایٹمی معاہدے کے حوالے سے کانگریس کے آئندہ کے فیصلے کی توثیق کے لیے چار شرائط کا اعلان کیا ہے۔اب تک دو بار ایران کے خلاف عائد ایٹمی پابندیوں کی معطلی کی مدت میں توسیع کرنے والے امریکی صدر نے ناراضگی کے اظہار کے باوجود پابندیوں کی معطلی کی مدت میں ایک بار پھر توسیع کردی ہے۔اسی دوران وائٹ ہاوس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے آخری بار ایران کے خلاف پابندیوں کی معطلی اور ایٹمی معاہدے کی توثیق کی ہے۔وائٹ ہاوس نے دعوی کیا ہے کہ اگر ایٹمی معاہدے میں صدر ٹرمپ کی خواہش کے مطابق تبدیلیاں نہ کی گئیں تو امریکہ اس معاہدے سے نکل جائے گا۔

Jan ۱۳, ۲۰۱۸ ۱۷:۱۵ Asia/Tehran
کمنٹس