Apr ۰۳, ۲۰۱۸ ۱۵:۴۹ Asia/Tehran
  • ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد تمام فریقوں کی ذمہ داری

اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے ایٹمی معاہدے کی پائیداری اوراس کی بقا معاہدے کے تمام فریقوں کی جانب سے غیرمشروط، موثر اور مکمل عملدرآمد پر منحصر ہے۔

اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب غلام علی خوشرو نے نیو یارک میں تخفیف اسلحہ کمیشن کے اجلاس میں کہا ہے کہ جوہری معاہدے کو کمزورکرنے کی کوششوں کی روک تھام عالمی برادری اور جوہری معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک کی ذمہ داری ہے اور ایٹمی معاہدے کی پائیداری اوراس کی بقا معاہدے کے تمام فریقوں کی جانب سے غیرمشروط، موثر اور مکمل عملدرآمد پر منحصر ہے۔غلام علی خوشرو کا کہنا تھا کہ جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے کےڈائریکٹر جنرل نے اپنی دس رپورٹوں میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے جوہری معاہدے پر مکمل عمل کیا ہے اور یہ معاہدہ یکطرفہ نہیں ہے لہذا معاہدے کے تمام فریقوں کو اس پر عمل در آمد کرنا چاہیے۔ایران کے مستقل مندوب نے جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکہ کی غیر ذمہ دارانہ اور غلط پالیسی کو واشنگٹن کی جانب سے وعدہ خلافی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کو جوہری معاہدے کو کمزور کرنے کی اجازت نہ دے۔غلام علی خوشرو نے تخفیف اسلحہ کے حوالے سے دوہرے معیار کی پالیسی یعنی بعض ممالک کی جانب سے ہتھیاروں کی دوڑ اور ایٹمی ہتھیاروں کی جدید کاری کو عالمی امن و سلامتی کے لئے خطرناک قرار دیتے ہوئے اس قسم کی پالیسی کی روک تھام کا مطالبہ کیا۔ایٹمی ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطی کے قیام کے ایرانی منصوبے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے علاقے کے قیام کا منصوبہ اسرائیل کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے عملی شکل اختیار نہیں کرسکا۔انہوں نے تخفیف اسلحہ کمیشن پر زور دیا کہ وہ اسرائیل  کو این پی ٹی معاہدے میں شامل کرنے اور اس کی ایٹمی سرگرمیوں کو عالمی ادارے کی نگرانی میں لینے کے معاملے کو اپنے ایجنڈے میں سب سے اوپر رکھے۔غلام علی خوشرو نے خلا میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنے کے لیے موثر اور ٹھوس کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا جو ایٹمی تخفیف اسلحہ کمیشن کے رواں اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

ٹیگس