• مسئلہ فلسطین کا راہ حل فلسطینیوں کے ذریعے ریفرنڈم : رہبر انقلاب اسلامی

رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے غزہ اور بیت المقدس میں صیہونی حکومت کے مظالم کے مقابلے میں یورپی ملکوں کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے ایک بار پھر مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے پیش کردہ فارمولے پر تاکید کی ہے۔

ایران کی علمی شخصیات، دانشوروں،  محققین اور یورسٹیوں کے اساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ تاریخی ملک فلسطین میں حکومت کی نوعیت کے تعین کے لئے اس سرزمین کے عوام کی رائے معلوم کی جانی چاہئے اور ریفرنڈم ہونا چاہئے اور یہ وہ طریقہ کار ہے جس کو پوری دنیا قبول کرتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ فلسطین میں حکومت کے تعین کے لئے سرزمین فلسطین کے سبھی اصلی فلسطینیوں سے خواہ وہ مسلمان ہوں یہودی ہوں یا عیسائی ہوں اور جنھوں نے کم سے کم اسّی سال اس سرزمین میں زندگی بسر کی ہو خواہ وہ فلسطین کے اندر ہوں یا باہر کے ملکوں میں پناہ گزیں ہوں رائے لینی چاہئے اور ان کی شرکت سے ایک ریفرنڈم ہونا چاہئے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا یہ فارمولہ جو باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کو پیش کیا جاچکا ہے اور وہاں درج بھی ہے، کیا ان اصولوں کے مطابق نہیں ہے جنھیں دنیا تسلیم کرتی ہے؟ پس یورپی ممالک کیوں اس کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

رہبرانقلاب اسلامی نے موجودہ دور کے شمر یعنی بچوں کی قاتل غاصب صیہونی حکومت کے وزیراعظم نتن یاہو کے دورہ یورپ میں اس کے ذریعے کئی گئی مظلوم نمائی کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ یہ مجرم شخص جو تاریخ کے شقی ترین ظالموں میں سے ایک ہے یورپی ملکوں کے سامنے جھوٹ بولتا ہے کہ ایران ہمیں اور کئی ملین دیگر یہودیوں کو نابود کرنا چاہتا ہے جبکہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے ایران کا فارمولہ مکمل طور پر منطقی اور جمہوری اصولوں کے مطابق ہے۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے دنیا کی بیشتر اقوام کے نزدیک اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی مقام و مرتبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی دشمن صرف سامراجی حکومتیں ہیں جن کی کوئی عزت نہیں ہے اس کے برخلاف دنیا کی بیشتر اقوام اور ممالک اسی طرح علاقےکی قومیں اسلامی جمہوریہ ایران کو انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہیں اسی بنا پر خبیث دشمن ہمیشہ ایران کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتے ہیں لیکن خدا وندعالم کے لطف و کرم سے انہیں ہمیشہ ایرانی عوام اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مقابلے میں شکست ہوتی رہے گی۔

آپ نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایران کی علمی و سائنسی پیشرفت اور ممتاز اساتذہ کی سیاسی، سماجی، اقتصادی، فضائی، ماحولیات، تخلیقاتی، سینما، فن و ہنر اور دیگر علمی اور سماجی امور کے شعبوں میں پیشرفت  کو اہم قراردیتے ہوئے فرمایا کہ یونیورسٹیوں کا ملک کی علمی پیشرفت اور تہذیب و تمدن کے فروغ میں اہم کردار ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ملک کی موجودہ اور آئندہ مشکلات کو عالمانہ طریقے سے اور علمی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس سلسلے میں ملک کی علمی شخصیات اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے یورینیم کی بیس فیصد افزودگی کو ایران کے با صلاحیت نوجوانوں کی کارکردگی  کا ایک شاندار نمونہ قرار دیتے فرمایا کہ ایک ایسے وقت جب ایران کو بیس فیصد افزودہ یورینیم کی فروخت پر شرط و شرائط رکھی گئیں اور ملک کے بعض حکام اس کے لئے تیار بھی ہوگئے تھے ایرانی نوجوانوں کی کوشش اور استقامت کی بدولت ہم بیس فیصد تک یورینیم افزودہ کرنے میں کامیاب ہوئے اور دنیا نے دیکھ لیا کہ ایران کو امریکا، روس اور فرانس کے یورینیم کی ضرورت نہیں رہ گئی ہے۔

Jun ۱۱, ۲۰۱۸ ۱۱:۴۸ Asia/Tehran
کمنٹس