Jul ۰۴, ۲۰۱۸ ۱۵:۳۶ Asia/Tehran
  • ایران کے صدر کا دورہ آسٹریا

ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی اپنا دورہ سوئیٹزر لینڈ مکمل کرکے آسٹریا کے دورے پر ویانا پہنچے جہاں ایوان ہوفن برگ میں اس ملک کے صدر الیگزنڈر وان ڈر بیلین نے ان کا باضابطہ طور پر خیر مقدم کیا۔

ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی اپنے دورہ آسٹریا میں اس ملک کے مختلف حکام سے ملاقات اور مختلف مسائل پر گفتگو کر رہے ہیں۔

صدر ایران کے ویانا پہنچنے پر اس ملک کے صدر نے ہوفن برگ میں سرکاری طور پر استقبال کیا۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے اور دونوں ملکوں کے وفود میں شامل اراکین کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا گیا۔

منگل کی رات صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ویانا میں مقیم ایرانیوں سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انھوں نے امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے سے غیر قانونی طور پر نکلنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایران نے اپنے وعدوں پر عمل کیا اور یہ امریکہ ہے جو طاقت کے نشے میں اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے اور امریکہ صرف ایران کے خلاف دھمکی آمیز لہجے میں بات نہیں کر رہا بلکہ امریکہ نے یورپ، گروپ سیون اور چین کے خلاف بھی دھمکی آمیز لہجہ اختیار کر رکھا ہے۔

 صدر مملکت نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ عالمی ادارے من جملہ سلامتی کونسل، یورپی یونین اور دنیا کے اکثر ممالک اور اقوام، ایران کے ساتھ ہیں، کہا کہ اس قسم کی صورت حال میں اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور ایران ماضی کی طرح امریکی سازشوں کو ناکام بنائے گا اس لئے کہ ان کا موقف غیرمنطقی، غیر قانونی، ظالمانہ اور عالمی قواعد و ضوابط اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے۔

ڈاکٹر حسن روحانی ںے کہا کہ امریکہ یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ ایران اور دنیا کے دیگر ممالک کے تعلقات کو متاثر کرے گا لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتا اس لئے کہ وہ پوری دنیا کا چودھری نہیں ہے۔

ایران کے صدر نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی جانب سے گیارہ مرتبہ اپنی رپورٹ میں ایران کے جوہری معاہدے پر مکمل طور سے عمل در آمد کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے اکثر ممالک نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تجارتی روابط کو برقرار رکھیں گے اور انہوں نے اپنے بیانات اورطرز عمل سے دکھا دیا کہ  انہوں نے جوہری معاہدے سے امریکہ کے نکلنے اور ایران پر پابندیاں عائد کرنے میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیا۔

اس سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے منگل کو شہر بیرن میں سوئیٹڑرلینڈ کے صدر کے ساتھ مذاکرات میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی امریکہ کے ہاتھوں ہوتی ہے، کہا کہ ایران کے خلاف پابندیوں کا نفاذ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اس لئے کہ ان پابندیوں کے دائرے میں دواؤں اور غذائی اشیا کے ذریعے ایرانی عوام کی زندگی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس ملاقات میں سوئیٹزرلینڈ کے صدر آلین برسیٹ نے بھی ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے اس اقدام سے تہران اور بیرن کے درمیان تعاون پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

ٹیگس

کمنٹس