Jul ۰۹, ۲۰۱۸ ۱۵:۲۰ Asia/Tehran
  • علوم الہی کے محافظ و مروج  امام جعفر صادق علیہ السلام کا یوم شہادت

بانی مکتب جعفری فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ الصلوات و السلام کے یوم شہادت پر پورا اسلامی جمہوریہ ایران سوگوار و عزادار ہے اورپورے دن ملک کے گوشہ وکنار میں مجالس عزا و نوحہ و ماتم کا سلسلہ جاری رہا۔

فرزندرسول اور بانی مکتب جعفری حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے یوم شہادت کی مناسبت سے اتوار کی رات سے ہی ایران کے مختلف شہروں کی مساجد و امامبارگاہوں اور مقدس مقامات میں مجالس غم اور نوحہ و ماتم کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جو پیر کو پورے دن جاری رہا۔ اس مناسبت سے مجالس عزا کے مرکزی پروگرام مشہد مقدس میں حضرت امام رضا علیہ السلام کے حرم اور قم میں جناب فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کے حرم میں جاری رہے جہاں علما اور ذاکرین نے حضرت صادق آل محمد علیہ السلام کی حیات طیبہ اور علوم الہی و دینی کی ترویج میں ان کے عظیم کارناموں پر روشنی ڈالی۔  ایران کے مقدس مقامات میں زائرین اور سوگواروں کا جم غفیر ہے۔ اس موقع پر پورے اسلامی جمہوریہ ایران میں عام تعطیل رہی۔

فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم شہادت کے موقع پرعراق، لبنان، بحرین، شام ، پاکستان اور ہندوستان سمیت عالم اسلام بھی عزاداری اور مجالس غم کے اجتماعات ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور شاہراہوں پر سیاہ پرچم اور بینرز لگائے گئے ہیں۔ 

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سترہ ربیع الاول سن اسّی ہجری قمری کو مدینہ منورہ میں اس دنیا میں تشریف لائے۔ اپنے پدر بزرگوار حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت کے بعد روایات کے مطابق حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اکتیس سال کی عمرمیں ایک سوچودہ ہجری قمری کو لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کی الہی ذمہ داری سنبھالی اور منصب امامت پر فائز ہوئے۔

آپ کا دور امامت چونتیس برسوں پر محیط ہے ۔ جب آپ منصب امامت پر فائز ہوئے تو بنی امیہ اور بنی عباس کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری تھی جس کی بنا پر اموی حکمرانوں کی توجہ خاندان رسالت سے کسی حد تک ہٹ گئی اورخاندان رسالت کی عظیم المرتبت شخصیات نے امویوں کے ظلم و ستم سے محفوظ رہ کر کسی حد تک سکون کا سانس لیا۔ اسی دوران امام جعفرصادق علیہ السلام نے اسلامی تعلیمات کی ترویج کے لئے بے پناہ کوششیں کیں اور مدینے میں مسجد نبوی اور کوفہ شہر میں مسجد کوفہ کو ایک عظیم الشان درسگاہ میں تبدیل کردیا جہاں انہوں نے ہزاروں شاگردوں کی تربیت کی اورایک عظیم علمی و فکری تحریک کی بنیاد ڈالی۔ اس تحریک کو خوب پھلنے پھولنے کے مواقع ملے ۔امام جعفرصادق علیہ السلام کا ‌زمانہ علوم و فنون کی توسیع اور دوسری اقوام کےعقائد و نظریات اور تہذیب وثقافت کے ساتھ اسلامی افکار و نظریات اور تہذیب و ثقافت کے تقابل اور علمی بحث و مناظرے کے اعتبار سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔

اسی زمانے میں ترجمے کے فن کو بڑی تیزی سے ترقی حاصل ہوئی اورعقائد و فلسفے دوسری ‌زبانوں سے عربی میں ترجمہ ہوئے ۔امام جعفرصادق علیہ السلام کے دور کو تاریخ اسلام کا حساس ترین دور کہا جا سکتا ہے۔

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے کسب فیض کرنے والے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جن میں ہرمکتب فکرسے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ اہل سنت کے درمیان مشہورچاروں مکاتب فکرکے امام بلاواسطہ یا بالواسطہ امام جعفر صادق علیہ السلام کےشاگردوں میں شمار ہوتے ہیں خاص طور پر امام ابوحنیفہ نے تقریبا" دوسال تک براہ راست آپ سے کسب فیض کیا۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  نے ہمیشہ عوام کو حکمرانوں کی بدعنوانیوں اور غلط حرکتوں نیز غیراخلاقی و اسلامی سرگرمیوں سے آگاہ کیا آپ نے عوام کے عقائد و افکار کی اصلاح اور فکری شکوک و شبہات دور کر کے اسلام اور مسلمانوں کی فکری بنیادوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کی اور اہل بیت علیہم السلام کی فقہ و دانش، اسلامی احکام اور شیعہ مذہب کی تعلیمات کو اس قدر فروغ دیا کہ مذہب شیعہ نے جعفری مذہب کے نام سے شہرت اختیار کرلی۔

آپ کی مقبولیت اور عوام میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خوف زدہ ہو کر ظالم عباسی خلیفہ منصور دوانیقی نے پچیس شوال سن ایک سو اڑتالیس ہجری قمری کو امام جعفرصادق علیہ السلام کو زہر دے کر شہید کردیا۔

ٹیگس

کمنٹس