• اگر ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دیا تو!!!

عرب ممالک آبنائے ہرمز کی اہمیت کو کم کرنے اور ایرانیوں کی جانب سے اسے بند کرنے کی دھمکیوں کو غیر مؤثر بنانے کے لئے متعدد سمت میں کوششیں کر رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے تیل برآمد کو صفر تک پہنچانے کی دھمکی کے بعد ایران کے صدر نے علامتی طور دھمکی دی تھی کہ اگر ایران کا تیل برآمد نہیں ہو گا تو کسی کا تیل بھی برآمد نہیں ہوگا۔ یہ بیان آبنائے ہرمز کو براہ راست بند کرنے کی دھمکی سمجھا جا رہا تھا۔ ایران نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ خطرہ ہونے کی صورت پر آبنائے ہرمز بند کر دے گا اور یہ کام اس کے لئے ایک گلاس پانی پینے جیسا آسان ہے۔

2006  میں، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے ساتھ ہی جب فوجی ٹکراو کا خدشہ بڑھا تو اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمزو کے بند ہونے کا بھی خطرہ بڑھ گیا جس سے پوری دنیا اور خاص طور پر تیل برآمد کرنے والے عرب ممالک میں کہرام مچ گیا کیونکہ دنیا کا چالیس فیصد تیل اسی راستے سے جاتا ہے اور بہت سے عرب ممالک کے 100 فیصد تیل اسی راستے سے  دنیا تک پہنچتا ہے اسی لئے بعض عرب ممالک نے اپنے تیل کی برآمد کے لۓ متبادل راستے تلاش کرنے کی مہم شروع کی، بہت سے راستوں پر غور کیا گیا، جن میں سے ایک متحدہ عرب امارات الفجیرہ بندرگاہ سے دریائے عمان تک پائپ لائن بچھانا ہے تاکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کئے جانے کی حالت میں، تیل کے بحران سے محفوظ رہا  جا سکے۔

متحدہ عرب امارات نے 30 جون 2012 میں 3.3 بلین ڈالر کی قیمت پر الحبشان - الفجیرہ تیل پائپ لائن کی تعمیر کا افتتاح کیا۔ اس پائپ لائن کی لمبائی 380 کلو میٹر ہوگی اور پوری پائپ لائن متحدہ عرب امارات میں ہوگی۔

الحبشان - الفجیرہ تیل پائپ لائن کو یو اے ای آبنائے ہرمز کا متبادل بنانا چاہ رہا ہے جو مغربی ایشیا کی ایک اہم آبی گزرگاہوں میں ہے جو ایران کے جنوب میں خلیج فارس اور دریائے عمان کے درمیان میں واقع ہے اور اسے دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ بھیڑ بھاڑ والا آبی راستہ سمجھا جاتا ہے اور امریکی توانائی کے شعبے نے اسے دنیا کا سب سے اہم آبی راستہ کہا ہے۔  یہ خلیج فارس سے آزاد سمندری علاقوں تک پہنچنے کے لئے واحد راستہ ہے اور اسٹراٹیجی کے لحاظ سے سب سے اہم آبی راستہ تصور کیا جاتا ہے۔

اس کے شمالی ساحل پر ایران واقع ہے جبکہ جنوبی ساحل پر عراق، کویت، سعودی عرب، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور عمان واقع ہیں۔ آبنائے ہرمز کا عرض کچھ جگہوں میں بہت کم ہے جس میں بڑے جنگی بیڑوں اور بڑے ٹینکروں کو احتیاط سے گزرنا پڑتا ہے۔

سعودی عرب کا 88 فیصد ، عراق کا 98 فیصد ، 99 فیصد متحدہ عرب امارات اور 100 فیصد کویت اور قطر کا تیل آبنائے ہرمز سے ہوکر گزرتا ہے۔

سمندر کے ذریعے برآمد ہونے والے دنیا کے تقریبا 40 فیصد تیل آبنائے ہرمز سے ہوکر دوسرے ممالک تک پہنچتے ہیں۔

آبنائے ہرمز تیل کی برآمد کے لئے ہی اہم نہیں بلکہ تیل کے علاوہ بھی2.9 ارب ٹن سامان اسی آبی راستے سے گزرتا ہے اور دبئی بندرگاہ سے آزاد آبی راستے تک پہنچنے کا واحد راستہ آبنائے ہرمز ہے۔ خلیج فارس کے کئی ملک، بڑی بڑی بندرگاہیں بنا رہے ہیں جو آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے ساتھ ہی بند ہو جائیں گی تو پھر یو اے ای ایک پائپ لائن بچھا کر کیا کر سکتا ہے؟

ویسے بھی یہ پائپ لائن، یو اے ای کے تیل کی پیداوار کا 90 فیصد حصہ ہی منتقل کر سکتی ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ پائپ لائن بچھانے کے بعد بھی یو اے ای کو اپنے 10 فیصد تیل کی برآمد کے لئے آبنائے ہرمز کی ضرورت رہے گی، دیگر ممالک کی تو بات ہی نہیں کیونکہ یہ پائپ لائن متحدہ عرب امارات کا اپنا منصوبہ کہا جاتا ہے اور اسے کسی بھی صورت میں بین الاقوامی منصوبے کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

اس لئے آبنائے ہرمز کی اہمیت، کسی بھی طرح سے کم نہیں کی جا سکتی اور یہ جو حبشان- الفجیرہ تیل پائپ لائن کی بات اتنا بڑھا چڑھا کر کی جا رہی ہے تو وہ صرف پروپیگینڈے کی حد تک ہے عملا اس سے کچھ ہونے والا نہیں ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے ہاتھ میں موجود آبنائے ہرمز نامی اس تلوار کی دھار کی تیزی کم کرنا حبشان - الفجیرہ تیل پائپ لائن کے بس کی بات نہیں۔

ٹیگس

Jul ۱۱, ۲۰۱۸ ۱۳:۴۶ Asia/Tehran
کمنٹس