• عراقی صدر کی رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے عراقی صدر برہم صالح سے ملاقات میں، دشمنوں کے مقابلے میں استقامت و پائیداری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

عراق کے صدر برہم صالح نے سنیچر کی شام تہران میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔
رہبرانقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں عراق میں کامیاب پارلیمانی الیکشن، صدر، وزیر اعظم نیز دیگر اعلی عہدیداروں کے انتخاب اور ثبات واستحکام کے قیام پر خوشی کا اظہار کیا۔
آپ نے فرمایا کہ مشکلات پرغلبہ پانے اور بدخواہوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کا راستہ یہ ہے کہ اتحاد و یک جہتی کی حفاظت کی جائے، اپنے دوستوں اور دشمنوں کو پہچانا جائے، ذلیل دشمن کے مقابلے میں استقامت و پائیداری سے کام لیا جائے، اپنے جوانوں پر بھروسہ کیا جائے اور مرجعیت نیز بزرگ علمائے دین سے اپنے روابط مضبوط کئے جائیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں عراق کا صدر منتخب ہونے پر برہم صالح کو مبارکباد بھی پیش کی۔ آپ نے عراق اور ایران کی اقوام کےمضبوط تاریخی روابط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دونوں ملکوں کی اقوام کے تعلقات بے نظیر ہیں اور اربعین ملین مارچ اس کا ثبوت ہے۔
آپ نے اس سال اربعین کے موقع پر ایران اور دنیا کے دیگر ملکوں سے پہنچنے والے دسیوں لاکھ زائرین کی بے مثال پذیرائی پرعراق کی حکومت اورعوام کا شکریہ ادا کیا۔
آپ نے فرمایا کہ عراقی عوام آمریت اور استبداد کے ادوار کے بعد اب اپنے ملک کے خود مالک ہیں اور انہیں خودمختاری، آزادی اور حق رائے دہی حاصل ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ بعض بدخواہ حکومتیں اس کوشش میں ہیں کہ عراقی عوام اپنی اس عظیم کامیابی سے محروم ہوجائیں اور عراق اور خطے میں امن و استحکام نہ رہے۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ مختلف عراقی گروہوں، کرد، عرب ، شیعہ اور سنی کے اتحاد و یک جہتی کی تقویت ان سازشوں کے مقابلے کا واحد راستہ ہے۔
آپ نے ایران اور عراق کے درمیان تعاون میں زیادہ سے زیادہ فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ ایرانی حکام عراق کے ساتھ ہمہ گیر تعاون کے فروغ کے لئے مصمم ہیں اور میں بھی اس پر یقین رکھتا ہوں۔
اس ملاقات میں جس میں صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی بھی موجود تھے، عراق کے صدر برہم صالح نے رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کو اپنے لئے بہت بڑا افتخار قرار دیا اور کہا کہ ہم ایران کے ساتھ سبھی شعبوں میں پہلے سے زیادہ تعاون چاہتے ہیں۔
انھوں نے زائرین اربعین کی خدمت کو عراق کی حکومت اور عوام کے لئے باعث فخر قرار دیا اور کہا کہ عراق صدام کے استبداد کے خلاف مجاہدت کے دور میں اور اسی طرح تکفیری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران کی حمایت اور مدد کو فراموش نہیں کرسکتا۔
عراقی صدر برہم صالح نے کہا کہ اس وقت حکومت عراق کے سامنے سب سے اہم مرحلہ اندرونی اصلاحات ، ملی یک جہتی کی تقویت اور تعمیر نو کا ہے، ہم عراق کا خطے کا ایک طاقتور ملک بنانا چاہتے ہیں اور اس مرحلے میں ہمیں ایران کے تعاون کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔

ٹیگس

Nov ۱۷, ۲۰۱۸ ۱۹:۲۳ Asia/Tehran
کمنٹس