• اوپک اجلاس کے موقع پر امریکی سرگرمیاں مداخلت پسندانہ ہیں: ایران

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر پیٹرولیم نے اوپک کے رکن ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ایران کے امور میں امریکہ کے خصوصی ایلچی کی ملاقاتوں کو غیر ضروری اور مداخلت پسندانہ قرار دیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے پٹرولیم کےوزیر بیژن نامدار زنگنہ نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (OPEC) کے 175ویں اجلاس میں شرکت کے لئے ویانا پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اوپیک امریکی محکمہ توانائی کا حصہ نہیں ہے کہ امریکی احکامات پر عمل کرے بلکہ یہ ایک مستقل ادارہ ہے اور ایران کے امور میں امریکہ کے خصوصی ایلچی برایان هوک Brian Hook کی ویانا میں اوپک کے رکن ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں اور سرگرمیاں مداخلت پسندانہ ہیں۔

ایران کےپٹرولیم کےوزیر کا کہنا تھا کہ امریکہ کے خصوصی ایلچی برایان هوک Brian Hook نے ویانا کا دورہ اس لئے کیا کہ وہ امریکہ کو اوپک کا رکن ملک بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ نے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ ایران کے تیل کی برآمدات کو صفر تک پہنچا دے گا۔ لیکن اس کے باوجود نہ فقط امریکہ کو کامیابی نہیں ملی بلکہ وہ خود عالمی سطح پر گوشہ نشینی کا شکار ہو گیا۔

ٹیگس

Dec ۰۶, ۲۰۱۸ ۱۱:۴۰ Asia/Tehran
کمنٹس