• چھے ملکی اسپیکر کانفرنس میں شریک اسپیکروں کی صدر سے ملاقات

پاکستان کے اسپیکر کے ساتھ ہی افغانستان، ترکی، روس اور چین کے اسپیکروں نے بھی صدر ڈاکٹر حسن روحانی سے ملاقات کی۔ان ملاقاتوں میں باہمی روابط اور دہشت گردی کے خلاف مہم میں تعاون کے فروغ کی راہوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے افغانستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر عبدالرؤف ابراہیمی سےملاقات میں کہا کہ ایران اور افغانستان کے تعلقات کو روز بروز فروغ پانا چاہئے اور اس کے لئے ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے ان کا کہنا تھا کہ تہران اقتصادی میدانوں میں کابل کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ ایران کی جنوب مشرقی بندرگاہ چابہار نے تہران اور کابل کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینے اور علاقے کے سرمایہ کاروں کے لئے بہترین موقع فراہم کیا ہے۔
انہوں نے علاقے میں امن و استحکام کی برقراری اور اقتصادی ترقی و پیشرفت کے لئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تہران اور کابل کے تعاون کو ضروری بتایا۔
 افغانستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر عبدالرؤف ابراہیمی نے بھی اس ملاقات میں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایران میں افغان مہاجروں کے بچوں کے لئے حصول تعلیم کا موقع فراہم کیا جانا ایک عظیم کارنامہ اور خدمت ہے جو ایران نے افغان عوام اور حکومت کے لئے کی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ترکی کی پارلیمنٹ کے اسپیکر بن علی ییلدریم سے ملاقات میں ایران کے خلاف امریکی انتظامیہ کی غیر قانونی پابندیوں کے مقابلے میں ترکی کے صدر اور حکومت کے قابل قدر موقف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایران تہران کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کے لئے ترک حکومت اور ترکی کے صدر کی کوششوں کی قدر اور ان کا خیر مقدم کرتا ہے۔
ترکی کی پارلیمنٹ کے اسپیکربن علی یلدریم نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ دہشت گردی ایران اور ترکی کا مشترکہ دشمن ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ملکوں کے تعاون میں اضافہ ہونا چاہئے۔ روسی دوما کے اسپیکر ویچسلاؤ والودین اور چین کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے بھی صدر حسن روحانی سے الگ الگ ملاقات کی۔
 ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعاون کی توسیع کی راہوں کا جائزہ لیا جانے کے ساتھ ساتھ اہم ترین علاقائی اور عالمی مسائل پرتبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر حسن روحانی نے روسی پارلیمنٹ دوما کے اسپیکر ویچسلاؤ والودین سے ملاقات میں ایران اور روس کے تعلقات کودوستانہ قراردیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات اور تعاون پچھلے برسوں کے دوران بھی بہت ہی دوستانہ رہے ہیں اور حالیہ برسوں کے دوران تمام میدانوں میں ان تعلقات میں مزید فروغ اور استحکام آیا ہے۔
انہوں نے ایران اور روس کے درمیان ہوئے سمجھوتوں پر جلد از جلد عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران اور روس کی پارلیمانیں دونوں ملکوں کی حکومتوں کی مدد سے اقتصادی سمجھوتوں کے نفاذ کے راستے میں تیزی سے قدم بڑھائیں گی۔

Dec ۰۸, ۲۰۱۸ ۱۹:۲۰ Asia/Tehran
کمنٹس