Jan ۱۸, ۲۰۱۹ ۱۹:۰۰ Asia/Tehran
  • امریکا کا غیرانسانی سلوک ، صحافی مرضیہ ہاشمی کا کوئی پتہ نہیں

پریس ٹی وی کی اینکر مرضیہ ہاشمی کہ جنہیں امریکا میں حراست میں لے لیا گیا، ان کے گھر والوں کو یہ نہیں معلوم ہے کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔

 پریس ٹی وی کی اینکر مرضیہ ہاشمی کے بیٹے حسین ہاشمی نے ایک انٹرویو میں ایسو شی ایٹیڈ پریس کو بتایا ہے کہ انہیں اپنی ماں کے بارے میں کچھ نہیں پتہ ہے کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انہیں اور ان کی بہن کو اس ہفتے عدالت میں بلایا گیا ہے۔ انھوں نے اس انٹرویو میں بتایا کہ ان کی ماں کو کسی نا معلوم کیس میں کلیدی گواہ کے عنوان سے حراست میں لیا گیا ہے۔

پریس ٹی وی کی اینکر مرضیہ ہاشمی کی گرفتاری سے ایک مہینہ قبل صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرس ودآؤٹ باڈر نے اپنی سالانہ رپورٹ میں امریکا کو صحافیوں کے لئے چھٹا خطرناک ملک قرار دیا تھا۔

ایک امریکی تجزیہ نگار بروس ڈکسن نے پریس ٹی وی سے انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکا میں آزادی بیان صرف ایک نعرہ ہے کیونکہ امریکی حکومتیں اپنے اوپر تنقید کرنے والے صحافیوں پر ہمیشہ تشدد کرتی ہیں۔

ایران کے ریڈیو ٹیلیویژن کے قومی ادارے آئی آر آئی بی کے چیئر مین ڈاکٹر علی عسگری نے مرضیہ ہاشمی کی گرفتاری کے بارے میں کہا ہے کہ انہیں صرف ان کے اسلامی عقائد، حریت پسندانہ اور انقلابی نظریات اور استقامتی محاذ کی حمایت کی بنا پرامریکا میں حراست میں لیا گیا ہے۔

آئی آر آئی بی ورلڈ سروس کے سربراہ ڈاکٹر پیمان جبلی نے بھی پریس ٹی وی کی اینکر مرضیہ ہاشمی کی گرفتاری کے بعد ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ امریکا میں مرضیہ ہاشمی کی گرفتاری کی اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ وہ ایک مسلمان امریکی خاتون ہیں اور دو ہزار تین سے پریس ٹی وی کے لئے کام کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر پیمان جبلی نے حراست میں لینے کے بعد مرضیہ ہاشمی کے ساتھ بدسلوکی اور ان کا حجاب اتارے جانے کو اسلامی اصولوں اور اقدار کی توہین قرار دیا ہے۔

ٹیگس

کمنٹس