Apr ۲۶, ۲۰۱۹ ۱۵:۴۸ Asia/Tehran
  • ایران اور روس ، امریکہ کی غنڈہ گردی کا ڈٹ کرمقابلہ کر رہے ہیں، جنرل حاتمی

ایران کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ تہران اور ماسکو اپنی آزادانہ پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ کے نشانے پر ہیں۔

رشا ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے وزیردفاع بریگیڈیئر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ ایران اور روس خطے کی سلامتی اور استحکام کی حفاظت اور امریکہ کی غنڈہ گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے واشنگٹن نے تہران اور ماسکو کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا رکھا ہے۔
ایران کے وزیر دفاع نے کہا کہ امریکہ اگرچہ ساری دنیا کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے  لیکن ایران اور روس کے لیے بہت زیادہ مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بریگیڈیئر جنرل امیر حاتمی نے امریکہ کی اس دھمکی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ تمام آپشن ہماری میز پر موجود ہیں، کہا کہ ایران اپنے مفادات کی تشخیص اور تحفظ کے لیے لازمی توانائی اور عملی اقدامات کی طاقت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو گزشتہ چالیس سال سے امریکی پابندیوں کا سامنا ہے مگر ہم نے ان تمام سازشوں کو شکست دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ عالمی قوانین کی پرواہ کرتا ہے اور نہ ہی انسانی اصولوں کو اہمیت دیتا ہے۔
جنرل حاتمی نے شام سے متعلق ایران اور روس کے درمیان تعاون کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے شام میں قیام امن کے لئے اچھی کارکردگی دکھائی اور یقینا شام کی تعمیر نو کے لئے بھی مل کر تعاون کریں گے۔
 انہوں نے کہا کہ ایران اور روس کے درمیان تعاون صرف شام تک محدود نہیں بلکہ اعلی سطحی فوجی اور سیاسی وفود تواتر کے ساتھ ایک دوسرے کے ملکوں کا دورہ کر رہے ہیں جس سے تہران اور ماسکو کے درمیان تعاون کی وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
 دوسری جانب روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگوف نے ایران کے وزیر دفاع کے ساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعاون اعلی سطح پر پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران اور روس کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کے باوجود دونوں ممالک باہمی تعاون کے فروغ کے راستے پر گامزن ہیں۔
باہمی اعتماد کے سائے میں اعلی سطح پر پہنچنے والا ایران روس تعاون امریکی ریشہ دوانیوں سے کمزور نہیں ہو گا۔ عالمی اداروں کے بارے میں ایران اور روس کے مشترکہ نظریات اور ملٹی لیٹرل ازم کے احترام نیز دونوں ملکوں کی جانب سے امن کے لیے سفارت کاری ایسے معاملات ہیں جن کی عالمی برادری بھی حمایت کرتی ہے۔
 ایسے حالات میں امریکہ اپنی اشتعال انگیزی اور خودسرانہ پالیسیوں کے ذریعے عالمی قوانین اور ضابطوں کے دائرے میں فروغ پانے والے ایران روس تعاون پر ہرگز اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

ٹیگس

کمنٹس