Aug ۱۰, ۲۰۱۹ ۱۵:۰۹ Asia/Tehran
  • سینچری ڈیل کسی صورت کامیاب نہیں ہو گی، رہبر انقلاب اسلامی کی تاکید

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تمام مسلمانوں کو دشمنوں کے مکر کو ناکام بنانے کے عمل میں فعال شرکت کی دعوت دیتے ہوئے تاکید فرمائی ہے کہ مزاحمتی محاذ کے عزم و ایمان کے نتیجے میں سینچری ڈیل ناکام ہوکے رہے گی۔

ہفتے کے روز حجاج کرام کے نام اپنے سالانہ پیغام میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ صدی کا سب سے بڑا ظلم سرزمین فلسطین میں رونما ہوا ہے۔ 
آپ نے واضح فرمایا کہ فلسطین کا مسئلہ عالم اسلام کا اہم ترین مسئلہ ہے جو بلا تفریق مسلک، نسل و زبان، تمام مسلمانوں سیاسی مسائل میں سرفہرست ہے۔ 
آیت اللہ العظمی سید ‏علی خامنہ ای نے کے پیغام حج میں آیا ہے کہ سینچری ڈیل ترفند، کہ جس پر ظالم امریکہ اور اس کے خیانت کار اتحادیوں کے ذریعے عمل کیا جا رہا ہے، انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ 
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ توفیق الہی کی وجہ سے فلسطین کے عوام ہار مان کے نہیں بیٹھے ہیں بلکہ آج وہ ماضی سے زیادہ پرجوش اور بہادری کے ساتھ میدان عمل میں موجود ہیں تاہم انھیں کامیابی کے حصول کے لیے تمام مسلمانوں کی مدد کی ضرورت ہے۔ 
آپ نے مشرکین سے برائت کے پروگرام کو ہر طرح کے ظلم و ستم، برائیوں اور ہر زمانے کے طاغوتوں سے بیزاری اور ہر دور کے منہ زوروں اور سامراجیوں کے لیے ڈٹ جانے کے مترادف قرار دیا۔ 
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے واضح فرمایا کہ آج استکباری قوتوں اور ان میں سر فہرست امریکہ کے کفر و شرک کے محاذ سے اعلان برائت کا مطلب، مظلوموں کے قتل عام اور جنگ افروزی سے بیزاری ہے، امریکی بلیک واٹر اور داعش جیسے دہشت گردی کے مراکز کی مذمت ہے، اس اعلان برائت کا مطلب بچوں کی قاتل صیہونی حکومت اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں اور اس کے مددگاروں کے خلاف امت اسلامیہ کی فلک شگاف فریاد ہے۔
آپ نے فرمایا کہ برائت از مشرکین کا مطلب مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے حساس علاقے میں امریکہ اور اس کے حامیوں کی جنگ افروزی کی مذمت ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ  اعلان برائت کا مطلب جغرافیائی محل وقوع یا نسل و رنگ کی بنیاد پر تفریق و نسل پرستی سے بیزاری ہے۔
آپ نے فرمایا کہ اعلان برائت کا مطلب اس شرافت مندانہ، نجیبانہ اور منصفانہ روش و سلوک کے مقابلے میں جس کی اسلام دعوت عام دیتا ہے، جارح و فتنہ انگیز طاقتوں کی استکباری اور خبیثانہ روش سے بیزاری ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ دنیائے اسلام کے دانشوروں کے دوش پر، جن کی ایک تعداد مختلف ملکوں سے آکر اس وقت حج کے اعمال میں شریک ہوئی ہے، بہت بڑی ذمہ داری ہے۔  
آپ نے تاکید فرمائی یہ درس، عالم اسلام کے دانشوروں کے ذریعے تمام قوموں اور رائے عامہ کے اذہان میں منتقل کیا جائے تاکہ افکار و نظریات کے معنوی تبادلے کا راستہ ہموار ہو سکے۔

ٹیگس