Sep ۲۵, ۲۰۱۹ ۱۰:۴۵ Asia/Tehran
  • ایران کے صدر سے سوئٹزرلینڈ کے صدر نیز برطانوی اور سویڈن کے وزیراعظم کی ملاقات

ایران کے صدر سے سوئٹزرلینڈ کے صدر اور سویڈن اور برطانیہ کے وزرائے اعظم نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتین کیں۔

سوئٹزرلینڈ کے صدر 'اولی مائورر' نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر حسن روحانی کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک کےدرمیان 100 سالہ روابط پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے باہمی تعلقات کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ادھراسلامی جمہوریہ ایران کے صدرحسن روحانی نے منگل کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس کے موقع پر برطانوی وزیر اعظم بوریس جانسن کے ساتھ  ہونے والی ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے تین یورپی ممالک کے ایران مخالف الزامات پر مبنی بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جوہری معاہدے کے رکن ممالک کے طور پر اپنے وعدوں پر قائم رہیں.

اس موقع پر انہوں نے مشرق وسطی میں برطانیہ کی دیرینہ موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں تین یورپی ممالک کے حالیہ ایران مخالف بیان پر بہت افسوس ہے اور اس قسم کی صورتحال میں اس قسم  کا بیان بالکل بھی مناسب نہیں تھا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے ضمن میں سویڈن کے وزیراعظم اسٹفن لوون نے ایران کے صدرحسن روحانی سے ملاقات اور گفتگو کی۔

صدر حسن روحانی نے اس ملاقات میں ایران اور سویڈن کے سیاسی ، تجارتی اور صنعتی شعبوں میں تعلقات کو مثبت قراردیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے یکطرفہ طور پر خارج ہونے کے بعد باہمی تجارتی تعلقات میں کمی واقع ہوئی ہے اور امریکہ کے دباؤ میں دونوں ممالک کےتعلقات  متاثر نہیں ہونے چاہییں ۔ اس ملاقات میں سویڈن کے وزیراعظم نے اپنے تہران کے دورے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سویڈن ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کا خواہاں ہے اور دیگر ممالک کی پالیسیاں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوں گی۔

در ایں اثناء حسن روحانی نے نیویارک میں امریکی ذرائع ابلاغ کے سینئر مینجروں سے ہونے والی ملاقات میں کہا کہ ان کے فرانسیسی ہم منصب "ایمانوئل میکرون" کی کوششیں  اس وقت نتیجہ خیز ثابت ہوں گی جب امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ، ایران مخالف امریکی پابندیوں کو اٹھائیں جس کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران گروپ 5+1 کے فریم ورک کے اندر امریکہ سے مذاکرات کر سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کیخلاف امریکی دباؤ میں اضافہ، بظاہر مذاکرات کیلئے امریکی پیشگی شرط ہے حالانکہ اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف یہ ہے کہ مذاکرات کیلئے تمام پیشگی شرائط کو اٹھانے کی ضرورت ہے۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ تعجب کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حالیہ حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ایران پر لگایا جاتا ہے اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ یمنی فوج کی طاقت کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف الزام لگائے جانے والے، یمنی فوج کی ترقی کا اندازہ نہیں لگا سکتے ہیں لہذا وہ اپنی آنکھوں کو بند کرتے ہوئے قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس میں شرکت کرنے کیلئے نیویارک کے دورے پر ہیں۔

صدر مملکت حسن روحانی نے نیویارک روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ دورہ نیوریاک کے موقع پر خطے میں قیام امن کے حوالے سے ایک نئی تجویز("آبنائے ہرمز، امن کا منصوبہ" ) پیش کریں گے جو خلیج فارس میں خطے کےتمام ممالک کے درمیان تعاون پر مبنی ہے۔اوریہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو صرف خطے کی سلامتی کے حوالے سے نہیں بلکہ خطے کی معیشیت کے حوالے سے بھی ہے اور ہماری خواہش ہے کہ خطے کے تمام ممالک اس منصوبہ میں حصہ لیں۔

ٹیگس