Jan ۲۹, ۲۰۲۰ ۱۴:۵۰ Asia/Tehran
  • سینچری ڈیل کی وسیع پیمانے پر مخالفت

اسلامی جمہوریہ ایران سمیت بہت سے اسلامی ملکوں اور سبھی فلسطینی تنظیموں نے امریکا کے ناپاک" سنیچری ڈیل" منصوبے کو مسترد کردیا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے ناپاک امریکی صیہونی منصوبے "سینچری ڈیل" کی رونمائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے خطے اور پوری دنیا کے لیے ڈراؤنا خواب قرار دیا ہے۔

اپنے ایک ٹوئٹ میں وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے اس نام نہاد "امن منصوبے" کو دیوالیہ ہوجانے والے امریکی ٹھیکدار کا "خیالی پروجیکٹ" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امید ہے کہ یہ سازشی منصوبہ ان تمام مسلمانوں کے لیے بیداری کا الارم ثابت ہوگا جو اب تک غلط راستے چلتے رہے ہیں۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے بھی" سنیچری ڈیل" کے نام سے پیش کیے جانے والے نام نہاد امن منصوبے کو فلسطینی قوم اور پوری امت مسلمہ کے خلاف "صدی کی خیانت" قرار دیتے ہوئے خطے اور دنیا بھر کے خود مختار ملکوں اور حکومتوں سے اس گھناونی سازش کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کی ہے۔

عراق کے جید عالم دین اور بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی نے بھی ناپاک "سینچری ڈیل" منصوبے کی رونمائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے سے دنیا بھر کے کروڑوں عرب اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔

حزب اللہ لبنان نے بھی ایک بیان جاری کر کے کہا ہے کہ کوئی بھی منصوبہ، سازش اور چال بازی فلسطینوں کو ان کی سرزمین اور اس کی ملکیت کے حق سے محروم نہیں کرسکتی۔ بیان میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ اگر بعض عرب حکومتیں مسئلہ فلسطین سے کھلی اور خفیہ غداری نہ کرتیں تو" سینچری ڈیل" ہر گز جنم نہ لیتی۔

حزب اللہ لبنان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "سینچری ڈیل" کے خطے کے مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی شیطانی حکومت نے برسوں تک عربوں کے دشمن، قابض، جارح اور قاتل کی حمایت کرنے کے بعد آج اپنی دشمنی کا رخ فلسطینی قوم کے تاریخی اور قانونی حقوق کی نابودی کی جانب کردیا ہے۔حزب اللہ لبنان کے بیان میں مقبوضہ علاقوں کی بازیابی کے لیے مزاحمت اور استقامت کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے نہ تو کسی قیدی کو آزاد کرایا جاسکتا ہے اور نہ ہی غاصبابہ قبضہ ختم ہوسکتا ہے بلکہ اس سے دشمن کو جارحیت اور توسیع پسندی کی مزید شہہ ملتی ہے۔

قطر کے وزیر خارجہ نے بدھ کی صبح جاری کیے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ جب تک بیت المقدس کی ملکیت اور اپنے آبائی علاقوں میں واپسی سے متعلق فلسطینیوں کا حق تسلیم نہیں کیا جاتا علاقے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔

ادھر فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے سینچری ڈیل پر احتجاج کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے ٹیلی فون کا جواب دینے سے انکار کردیا ہے۔ صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے منصوبے کو ہرگز قبول نہیں کریں گے جس میں فلسطینی عوام کے تمام حقوق منجملہ دارالحکومت بیت المقدس کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا معاملہ مخدوش ہوتا ہو۔

تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹیو کیمٹی کے رکن عزام الاحمد نے بھی اپنے بیان میں یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ وقت آگیا ہے کہ تل ابیت کے ساتھ ہونے والے اب تک کے تمام معاہدوں کو منسوخ کردیا جائے۔اس سے پہلے پی ایل او کی ایگزیکٹیو کیمٹی کے سربراہ صائب عریقات نے "سنیچری ڈیل" کی رونمائی کی صورت میں اوسلو معاہدے سے نکل جانے کا اعلان کیا تھا۔

اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے ایک رہنما سامی ابو زھری نے"سینچری ڈیل" پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نام نہاد امن منصوبے کے حوالے سے ٹرمپ کا بیان انتہائی جارحانہ ہے اس سے فلسطینیوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہوگیا ہے۔

دوسری جانب غزہ اور غرب اردن نیز مقبوضہ فلسطین کے مختلف شہروں میں ناپاک امریکی منصوبے" سینچری ڈیل" کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

غرب اردن میں"سینچری ڈیل" کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر صہیونی فوجیوں کے حملے میں کم سے کم بائیس فلسطینیوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔فلسطین کی ہلال احمر کمیٹی کے مطابق صیہونی فوجیوں نے مشرقی بیت المقدس میں واقع البیرہ ٹاؤن کے علاقے میں مظاہرہ کرنے والوں پرامن فلسطینیوں پر آنسوگیس کے گولے داغے، ربر کی گولیاں چلائیں اور بعد ازاں لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے بے انتہا تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

ٹیگس