Oct ۱۳, ۲۰۲۰ ۱۵:۴۰ Asia/Tehran
  • وبائی امراض کے دور میں غیر قانونی پابندیاں نسل کشی ہے: ایران

ایران کے وزیر صحت نے خطرناک وبائی مرض کے دور میں غیر قانونی پابندیوں اور دشمنانہ اقدامات کو نسل کشی سے تعبیر کیا ہے۔

ایران کے وزیر صحت سعید نمکی نے کہا ہے کہ بعض ممالک نے ایران کے لئے انفلوئنزا ویکیسن کی درآمدات تک میں بہت زیادہ مسائل پیدا کئے ہیں۔ یہ بات انہوں نے عالمی ادارہ صحت میں مشرقی بحیرہ روم علاقے کے رکن ملکوں کے وزرائے صحت کے سڑسٹھویں آن لائن اجلاس سے خطاب میں کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض ممالک ویکسین کی قیمت بڑھانے کےعلاوہ اس ویکسین کو درآمد کئے جانے کی راہ میں بھی خوب روڑے اٹکا رہے ہیں۔

ایران کے وزیر صحت نے کہا کہ امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں کے نتیجے میں رمڈسیویر اور فاویپیراویر جیسی دواؤں کی فراہمی میں بہت زیادہ مسائل پیدا ہوئے ہیں، تاہم یہ دوائیں اب ایران میں ہی تیار کی جا رہی ہیں اور ایران میں اس وقت کورونا ویکسین تیار کرنے کے لئے  بھی سات تحقیقاتی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر نمکی نے بتایا کہ اندرون ملک تیار کئے جانے والے ویکسین کو جانوروں پر آزمایا گیا ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں اور جلد ہی اس ویکسین کا عملی تجربہ انسان پر بھی کیا جائے گا۔

انہوں نے اسی طرح عالمی ادارۂ صحت کے تمام رکن ملکوں اور تمام علاقائی و عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے مؤثر اور ہمہ جہتی تعاون سے امریکا کی خودسرانہ غیر قانونی پابندیوں کا خاتمہ کرائیں اور کورونا جیسے وبائی بیماری کا خاتمہ کرانے کی ضمانت فراہم کریں۔

ایران کے وزیر صحت سعید نمکی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کورونا جیسے وبائی مرض اور امریکہ کی غیر قانونی و ظالمانہ پابندیوں کا ایک ساتھ مقابلہ کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے پہلے پچاس دنوں میں امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں کے باوجود ایران کی پٹروکیمیل کمپنیوں نے ایسے مواد تیار کئے جو ہلکے و باریک کپڑے یا میڈیکل کٹس اور ماسک تیار کئے جانے میں کام آئے۔

انھوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران ایران نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ دیگر ملکوں کو بھی طبی وسائل فراہم کئے۔

چند روز قبل ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے بھی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریش کے نام ایک مراسلے میں ایران کے خلاف امریکہ کی یکطرفہ اور ظالمانہ پابندیاں ختم کرائے جانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ڈاکٹر ظریف نے واضح کیا تھا کہ صحت سے متعلق ایران کی سائنسی توانائی کے باوجود دواؤں اور طبی وسائل کی فروخت میں امریکی شرطیں اور بندشیں ایران میں کورونا وائرس کے خلاف مہم میں بڑی رکاوٹوں کی باعث بنی ہیں۔

ایران سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد مختلف ملکوں کے حکام منجملہ ترکی، پاکستان، روس، اور چین کے بیشتر حکام نے ایران کے خلاف امریکہ کی  خودسرانہ اور غیر قانونی پابندیوں کے خاتمے کی اپیل کی، مگراس کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ نے ایران کے خلاف ان پابندیوں کو نہ صرف ختم نہیں کیا بلکہ ان میں اضافہ بھی کر دیا۔

 

ٹیگس