• 39ویں سالگرہ انقلاب اور تدبر رہبری

موجودہ دور کھوٹے اور کھرے کی پہچان کا دور ہے، خالص اور ملاوٹ شدہ کی جدائی کا دور ہے، اب خالص اصلی لوگ ایک جگہ جمع ہو رہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ وقت کے امام کا لشکر اب تیاری پکڑ رہا ہے، جو سفیانی کا مقابلہ کرنے کیلئے بے تاب ہے

 انقلاب اسلامی ایران کی انتالیسویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، یہ انتالیس سال ایک طرف تو دنیا میں ایک نئے رنگ، نئے کلچر، نئے اندا، نئے دستور، نئے قانون اور نئی روایات کے انتالیس سال ہیں اور دوسری طرف دیکھا جائے تو اسلام کے احیاء، اسلامی اصولوں کے نفاذ، اسلامی قوانین اور دستور و آئین کی بحالی، معاشی انصاف، برابری، غیرت و حمیت کی عملی تصویر، حریت و آزادی اور استقلال کی روایات کی بحالی کے انتالیس سال ہیں۔ ان انتالیس برسوں میں دنیا کی سیاست، علاقوں کی صورتحال، اسلامی ممالک اور اسلامی تحریکوں کی ترجیحات بدل کر رکھ دینے کے سال ہیں۔

ان انتالیس برسوں میں انقلاب اسلامی ایران نے دنیا کے نقشے پر اپنے اصولوں پر جم کر اور اپنی شرائط کے ساتھ اپنی آزادی کو قائم رکھتے ہوئے اپنے مفاد کو بہتر انداز میں حاصل کرنے اور جراتمندانہ انداز اختیار کرنے، بڑی اور نام نہاد سپر طاقتوں کے سامنے اپنا سر فخر سے بلند کرنے کی ریت اور روایت سے آشنائی کروائی ہے، جو ایک ایسی مثال ہے، جسے اسلامی ممالک سمیت دنیا کے کئی دیگر ملک بھی بھول چکے تھے اور بڑی طاقتوں کے سامنے سر جھکا چکے تھے۔

انقلاب اسلامی کن وجوہات کی وجہ سے آیا اور اسے لانے والوں نے کس قدر خلوص اور جانثاری سے کام کیا، اس راہ میں کتنے لوگوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور ستم شاہی کا مقابلہ کرتے ہوئے کیسے کیسے گوہر نایاب خون میں نہا گئے، یہ داستان بہت طویل ہے، ان گنت قربانیاں ہیں، ان گنت مشکلات اور مصائب ہیں، ان گنت حادثات و سانحات ہیں، جن کی اپنی تاریخ اس قدر طویل اور تفصیلی ہے کہ ان پہ الگ سے کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ایک ایک واقعہ الگ الگ داستان رکھتا ہے، اس قدر طوالت کہ ہم اس مختصر مضمون میں ان تمام واقعات کا عنوان بھی ذکر کرنے سے قاصر ہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم جنرلی اس انقلاب کی ایثار و قربانیوں اور اس کیلئے طویل جدوجہد کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس قیادت و سیادت کا تذکرہ کریں، جس نے اس قوم و ملت میں ایسی روشنی پیدا کر دی تھی کہ انہوں نے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنا گوارا نہ کیا۔

یہ کیسے لوگ تھے جو ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے، یہ کیسے لوگ تھے، جو ستم شاہی اور ساواکی ظلم و ستم اور تشدد برداشت کرتے رہے، مگر اپنے امام کو تنہا نہیں چھوڑا، حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو ولی امر کی شخصیت اور ان کا پیش کردہ نظریہ جسے ولایت فقیہ کہا جاتا ہے، اس سے مکمل آشنائی اور اس پر کامل یقین ہی تھا، جو اسلام کے ان فرزندان کو شاہی ستم کے مقابل لے آیا تھا اور ان کا ڈر و خوف ختم ہوچکا تھا، یہ موت سے ڈرنے والے نہیں تھے، اگر ایسا ہوتا تو یہ انقلاب نہ آتا اور اگر آگیا تھا تو قائم نہ رہتا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس انقلاب اسلامی کو لانے کیلئے جتنے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، اس سے کہیں بڑھ کر اسے قائم رکھنے کیلئے قربانیاں پیش کی ہیں اور آج بھی پیش کی جا رہی ہیں۔آج صورتحال بہت دلچسپ ہوچکی ہے، پہلے جس انقلاب کے خاتمہ کی کوشش اور سازش کی گئی، اس میں ناکام ہوئے، دوسرا مقصد ان کا یہ ٹھہرا کہ اس انقلاب کے اثرات کو ایران تک محدود کر دیا جائے، اس میں بھی انہیں ناکامی ہوئی اور آج انقلاب اپنے جوبن پہ ہے۔

الحمد للہ یمن، لبنان، شام، بحرین، عراق، افغانستان، پاکستان، حجاز مقدس اور تمام دنیا میں اپنا اثر اور قوت رکھتا ہے۔ اسے محدود کرنے والے ہر قسم کی سازشیں کرکے اس انقلاب کے اثرات کو کم رنگ کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں، مگر قدرت خداوندی انقلاب کیساتھ ہے۔ انقلاب کی قیادت للہیت کی بنیاد پر، تقویٰ الٰہی اور سیرت آئمہ کی روشنی میں عوام کے مفادات کی ترجمانی کر رہی ہے اور اپنی الٰہی حکمت سے دشمن کو دھول چاٹنے پر مجبور کر رہی ہے۔

ولی فقیہ، رہبر معظم انقلاب اسلامی امام خامنہ ای کی دور اندیش نظروں، ان کی حکمت بر مبنی پالیسیوں، دنیائے جہاں کی سیاست پر گہری اور عمیق نظروں اور دشمن کی چالوں اور سازشوں سے آگاہی و بروقت تدارک کی پالیسیوں کے باعث ہم دیکھ رہے ہیں کہ انقلاب اسلامی ہر دن دشمن کو ورطہ حیرت میں ڈال رہا ہے۔ عجیب بات ہے کہ آس پاس کے نام نہاد اسلامی ممالک کی تمام تر سازشوں اور غداریوں کے باوجود ایران پر امریکی حملہ کی جرات نہیں ہوئی اور نہ ہی اسرائیلی گیدڑ بھبکیاں کام آئیں ہیں۔

ایران کے خلاف ان انتالیس برسوں میں جتنی بھی سازشیں ہوئی ہیں، وہ اگر کسی بھی ملک کے خلاف ہوتیں تو اس کا وجود دنیا کے نقشے پر کب کا مٹ چکا ہوتا، مگر انقلاب اسلامی ایران کا امتیاز اور فخر ہے کہ اس کی قیادت و رہبری نے اسے جھکنے نہیں دیا، اسے کمزور نہیں ہونے دیا کہ دشمن آگے بڑھ کر اسے چبا لے یا ہڑپ کر جائے، حالانکہ دشمن وحشی درندہ سے کم نہیں تھا۔

ایران کو صفحہ ہستی سے متانے کیلئے مسلط کردہ جنگ ہی کافی تھی، جب ایران بے سرو سامانی کے عالم  میں تھا تو صدام کے ذریعے سے حملہ کروا کر یہی سوچا گیا تھا کہ ایک دو دن میں تہران سقوط کر جائے گا، مگر آٹھ سال تک اسی بے سرو سامانی اور پابندیوں کیساتھ انقلاب نے عالمی استعمار کا مقابلہ کیا اور اسے اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔

یہ انقلاب کے بنیان گزار امام خمینی کی رہبری و قیادت تھی، جس نے دنیا کے سامنے جھکنے سے صاف انکار کر دیا اور خداوند کریم و مہربان پر یقین رکھتے ہوئے لا شرقیہ لا غربیہ کے نعروں سے دنیا کی سیاست میں ہلچل مچا دی اور اپنی عزت، آزادی اور استقلال پر آنچ نہیں آنے دی۔ انقلاب کے بنیان گزار کی رحلت جانسوز کے بعد انقلاب کے دشمنوں نے یہی سمجھا کہ اب یہ بکھر جائے گا اور اسے سنبھالنا ممکن نہیں ہوگا، مگر اللہ کی مدد اور وقت کے امام کی خصوصی نظر سے ولایت فقیہ کے الٰہی نظام کو کامیابی ملی اور اسی نظام نے امام کی رحلت کے انتیس برس بعد بھی انقلاب کو سربلند رکھا ہوا ہے اور اسے فتوحات سے ہمکنار کر رہے ہیں۔

موجودہ ولی فقیہ نے جس طرح دنیا کو دو بلاکوں میں تقسیم کرکے اپنے بلاک کو کامیابیاں دلائی ہیں، وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جا رہی ہیں۔ مزاحمت و مقاومت کا بلاک آج اپنی کامیابیوں اور فتوحات کو ولی فقیہ امام خامنہ ای کی حکمت و دانائی اور پالیسیوں و کمک کی نظر کرتا ہے۔ یہ کامیابیاں یمن کے محاذ پہ ہوں یا عراق کے محاذ پہ، لبنان کے مجاہدوں کے ہاتھوں ہوں یا شام میں برسر پیکار القدس بریگیڈ کے جیالوں اور شاہینوں کے ہاتھوں، ہر جگہ کامیابیاں قدم چوم رہی ہیں اور ولایت کا نظام مضبوط اور قوی ہو رہا ہے۔مزاحمت و مقاومت کے بلاک کے سامنے سفیانی و دجالی بلاک کو جس ہزیمت کا سامنا ہے، وہ سب کے سامنے ہے، آج دجالی، تکفیری منہ چھپاتے پھرتے ہیں اور جائے پناہ کی تلاش میں ہیں۔ انقلاب کی برکات سے ہی دنیا بھر میں اسلامی و مزاحمتی تحریکوں کو جلا ملی ہے، انہیں حوصلہ و ہمت اور رستہ و رہنمائی ملی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انقلاب سے متاثر حقیقی اسلامی و حریت کی تحریکوں کو بدنام کرنے اور انہیں راستے سے ہٹانے کی غرض سے عالمی استعمار و صیہونیوں نے جعلی اسلامی تحریکوں اور سفاک قاتلوں کے گروہ تیار کئے ہیں اور ان کے ذریعے اسلام کو بدنام کرنے کی کوششیں جا رہی ہیں، مگر اسلامی انقلاب نے اپنی حکمت، تدبر اور قربانیوں سے ان جعلی اسلامی تحریکوں کو طشت از بام کرتے ہوئے ناکامیوں سے دوچار کیا ہے، جو بہت بڑی کامیابی ہے۔

موجودہ دور کھوٹے اور کھرے کی پہچان کا دور ہے، خالص اور ملاوٹ شدہ کی جدائی کا دور ہے، اب خالص اصلی لوگ ایک جگہ جمع ہو رہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ وقت کے امام کا لشکر اب تیاری پکڑ رہا ہے، جو سفیانی کا مقابلہ کرنے کیلئے بے تاب ہے۔ انقلاب اسلامی ایران کا ایک ہدف و منزل بلاشبہ امام وقت کے انقلاب سے پہلے ہر قسم کی زمینہ سازی ہے اور ان کے عالمگیر اسلامی انقلاب کی راہیں ہموار کرنا اور رکاوٹوں کو دفع کرنا ہے۔ اس مقصد میں انقلاب بڑی حد تک کامیاب ٹھہرا ہے، وقت کا امام ظہور فرمائے گا تو انہیں ایک تجربہ کار فوج ملے گی، جو خمینیون ہونگے، جو حیدریون ہونگے، جو فاطمیون ہونگے جو زینبیون ہونگے۔ ہماری دلی دعا ہے کہ ہم امام کے اس لشکر کرار کی ہمراہی میں تیر و تلوار و تفنگ سے دشمن کا سینہ چیرنے کیساتھ قلب اطہر فرزند زہرا سلام اللہ کو راضی کرنے کا سبب بنیں۔

تحریر: ارشاد حسین ناصر

Feb ۱۲, ۲۰۱۸ ۱۲:۱۱ Asia/Tehran
کمنٹس