• سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کو کوئی سرکاری ملازمت نہیں دی جاتی۔

فرانسیسی ٹیلیویژن چوبیس نے رپورٹ دی ہے کہ سعودی عرب کے شیعہ مسلمانوں پر آل ‎سعود حکومت کا شدید دباؤ ہے۔

فرانس کے ٹیلیویژن نے سعودی عرب کے معروف شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کی شہادت کے خلاف قطیف میں کئے جانے والے مظاہرے کی تصویر پیش کرتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ یہ تصاویر، رات کے وقت پیچھے کی طرف سے لی گئی ہیں تاکہ مظاہرین کے چہروں کی شناخت نہ کی جاسکے۔

فرانسیسی ٹی وی چوبیس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ شیخ باقر النمر کو شہید کئے جانے سے سعودی عرب کے شیعہ مسلمانوں میں آل سعود حکومت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جبکہ آل سعود حکومت، سعودی عرب کے شیعہ مسلمانوں کے پرامن احتجاج کو طاقت کا استعمال کرکے کچل رہی ہے اور ان کے خلاف فائرنگ کر رہی ہے۔

فرانسیسی ٹیلیویژن کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں شیعہ مسلمان، اقلّیت میں ہیں اور اس ملک کی دو کروڑ، نوے لاکھ کی آبادی میں پندرہ فیصد سے زائد شیعہ مسلمان شامل ہیں جو اپنے خلاف ہونے والے ظلم کی بناء پر آل سعود حکومت پر اعتماد نہیں کرتے۔ فرانسیسی ٹیلیویژن نے اپنی رپورٹ میں صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ سعودی عرب میں اقلیتی شیعہ مسلمانوں کو بالکل نظر انداز کردیا گیا ہے، ان کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے جبکہ سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کو کوئی سرکاری ملازمت بھی نہیں دی جاتی۔

Jan ۰۶, ۲۰۱۶ ۰۴:۴۹ UTC
کمنٹس