عراقی فوج کے ایک کمانڈر نے موصل کے مغربی میں واقع نابلس علاقے کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرا لئے جانے کا اعلان کیا ہے۔

العالم کی رپورٹ کے مطابق موصل کے آپریشنل کمانڈر عبدالامیر رشید یاراللہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ عراقی فوج نے موصل کے مغرب میں نابلس کے علاقے کو داعش دہشت گرد گروہ کے قبضے سے مکمل طور پر آزاد کرا لیا ہے اور اس علاقے کی عمارتوں پر عراق کا قومی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔مذکورہ  کمانڈر نے کہا کہ داعش دہشت گرد گروہ کے خلاف کارروائی میں دسیوں دہشت گرد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔دوسری جانب عراق کی البدر تنظیم کے سیکریٹری جنرل ہادی العامری نے کہا ہے کہ شام میں موجود دہشت گردوں کی جانب سے عراق میں داعش دہشت گرد گروہ کی مدد کا سلسلہ منقطع کر دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ صوبے نینوا میں تلعفر کے مغرب میں شام سے ملنے والی عراق کی سرحدوں کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور اب دہشت گرد، ان سرحدوں سے رفت و آمد نہیں کر سکیں گے۔ہادی العامری نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ شام میں دہشت گردوں کی جانب سے عراق میں داعش دہشت گرد گروہ کی مدد کے تمام راستے منقطع کر دیئے گئے ہیں، کہا کہ داعش کے مقابلے میں مکمل کامیابی اب بہت نزدیک ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مغربی موصل کو آزاد کرائے جانے کی کارروائی انّیس فروری کو شروع ہوئی ہے اور اب تک مغربی موصل کے چالیس فیصد سے زائد علاقوں کو داعش کے دہشت گرد گروہ کے قبضے سے آزاد کرایا جا چکا ہے۔

Mar ۲۰, ۲۰۱۷ ۰۹:۰۳ UTC
کمنٹس