شام کے صدر بشار اسد نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ امریکہ کی سرکردگی میں مغربی ممالک، خان شیخون سانحے کی تحقیقات کے لئے اقوام متحدہ کا تحقیقاتی وفد بھیجے جانے کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر رہا ہے- دوسری جانب روس کے وزیر خارجہ نے خان شیخون میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے دعوے کی تحقیقات کے لئے کیمیائی ہتھیاروں کے روک تھام کے ادارے میں روس اور ایران کی تجاویز کی مخالفت کئے جانے پر تنقید کی ہے-

 خان شیخون علاقے میں چار اپریل کو کئے جانے والے مشکوک کیمیائی حملے میں سو سے زیادہ افراد جاں بحق اور تقریبا چار سو زخمی ہو گئے تھے-

اس مشکوک سانحے کے بعد امریکی سرکردگی میں دہشت گردوں کی حمایت میں تشکیل پانے والے مغربی و عربی محاذ نے اس حملے کی ذمہ داری شامی حکومت پر عائد کرنے کی بہت کوشش کی تاہم شامی حکومت نے اس الزام کو ہمیشہ ہی سختی سے مسترد کیا ہے-

شام کے صدر بشار اسد نے روس کی اسپوٹنیک اور ریانووسٹی نیوز ایجنسیوں کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شامی فوج اور عوام بارہا، دہشت گردوں کے کیمیائی حملوں کا نشانہ بنے ہیں لیکن اقوام متحدہ نے اب تک شامی حکومت کی جانب سے ماہرین پر مبنی تحقیقاتی وفد بھیجنے کی درخواستوں کو نظر انداز کیا ہے اور ان پر کوئی توجہ نہیں دی ہے-

بشار اسد نے کہا کہ مغربی ممالک جانتے ہیں کہ اگر تحقیقاتی وفد شام پہنچ گیا تو خان شیخون کے بارے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ڈرامے بازی کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی- شام کے صدر نے اس ملک کے الشعیرات ایربیس پر امریکی حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  یہ جارحیت پہلے سے منصوبہ بند سازش کے تحت کی گئی ہے-

خان شیخون کا مشکوک سانحہ امریکہ کے لئے اس بات کا بہانہ بن گیا کہ وہ سات اپریل کو شام کے صوبہ حمص کے الشعیرات فوجی اڈے کو جو علاقے میں داعش اور جبھۃ النصرہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ کا ایک نہایت اہم مرکز ہے، اپنی جارحیت کا نشانہ بنائے-

امریکہ نے الشعیرات فوجی اڈے پر انسٹھ کروز میزائل فائر کئے- بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ شامی حکومت پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کرنے کا مقصد رائے عامہ کو گمراہ کرنے، دہشت گردوں کے مقابلے میں شامی فوج کی حالیہ کامیابیوں پر پردہ ڈالنے اور حقائق کو برعکس پیش کرنے کی ایک کوشش تھی-

دوسری جانب روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ خان شیخون میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے دعوے کی تحقیقات کے لئے کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے ادارے میں ایران اور روس کی تجاویز کی مخالفت کا مقصد، ساری توجہ شام میں حکومت تبدیل کرنے کے طریقہ کار پر مرکوز رکھنا رہا ہے-

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے جمعے کو چین کے وزیر خارجہ وانگ ایی سے ملاقات میں کہا کہ مغربی وفود نے ایران اور روس کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے ادارے کے ماہرین کا ان مشکوک مقامات کا دورہ  کرائے جانے پر مبنی تجاویز بلا کسی دلیل کے مسترد کر دی جہاں کیمیائی ہتھیار استعمال کئے گئے ہیں-

 لاوروف نے کہا کہ شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی جھوٹی اور جعلی افواہ پھیلانا ایک حربہ ہے جس کے ذریعے سلامتی کونسل کی قرار داد بائیس چون پر عمل درآمد کی جانب سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے-

اس قرار داد میں تمام شامی فریقوں کی شرکت سے بحران شام کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر تاکید کی گئی ہے تاکہ دمشق حکومت کو تبدیل کرنے کی پرانی سازش کو ایک بار پھر اٹھایا جائے-

ہیگ میں کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے ادارے میں روس کے نمائندے الیگزنڈر سولگین نے بھی اعلان کیا ہے کہ ماسکو،  اس ادارے کی تحقیقاتی کمیشن کے ذریعے شام کے صوبہ ادلب میں کیمیائی ہتھیاروں کے سانحے کی مناسب تحقیقات کرانے کے لئے اپنی بھرپور کوشش کرے گا-

 

Apr ۲۱, ۲۰۱۷ ۱۰:۰۵ UTC
کمنٹس