اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب نے اس عالمی ادارے کے کوآرڈینیٹر کی رپورٹ میں جولان کی پہاڑیوں پر غاصبانہ قبضے کو نظرانداز کئے جانے پر شدید تنقید کی ہے۔

شام کے مستقل مندوب بشار جعفری نے مشرق وسطی کے مسئلے پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا ہے کہ ایک ایسے وقت اسرائیل کے ذریعے جولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کئے جانے کے معاملے کو جان بو جھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے جب یہ مسئلہ، مشرق وسطی کے اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے-

 شامی مندوب نے کہا کہ دمشق، فلسطینی قوم کی حمایت پر مبنی اپنے موقف پر بدستور قائم ہے اور شام اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ فلسطینی قوم کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے، ایک آزاد فلسطینی مملکت تشکیل دینے اور پناہ گزیں فلسطینیوں کو وطن واپس لوٹنے کا حق دیا جائے- 

انہوں نے اسرائیلی مظالم کے مقابلے میں سلامتی کونسل کی تشویشناک خاموشی کو صیہونی حکومت کے غاصبانہ اقدام اور پالیسی میں شدت اور غیر قانونی صیہونی بستیوں کی تعمیر جاری رہنے کا ایک بڑا سبب بتایا اور کہا کہ صیہونی حکومت اور دہشت گردی، ایک سکے کے دو رخ ہیں- 

شامی مندوب نے کہا کہ اسرائیل کے مقابلے میں سلامتی کونسل کے معذرت خواہانہ رویّے کی وجہ سے ہی صیہونی حکومت، جولان کے علاقے میں بلاخوف و خطر دہشت گردوں کی ہر طرح سے حمایت کر رہی ہے-

Apr ۲۱, ۲۰۱۷ ۱۱:۴۴ UTC
کمنٹس