• سعودی شاہ سلمان کی شاہ خرچیاں

سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انتہائی مہنگے تحائف سے نوازا ہے اور یہ تحائف سعودی عرب کی تاریخ میں سب سے مہنگے تحائف میں شمار ہوتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو شاہ سلمان کی طرف سے پیش کیے جانے والے تحائف میں انتہائی قیمتی اور نایاب خالص ہیرا، سونے سے تیار کردہ گن جس پر شاہ سلمان کی تصویر نقش تھی، 25کلوگرام وزنی خالص سونے سے تیار کردہ تلوار جس پر ہیرے اور دیگر نادر قسم کے پتھر اور جواہر نصب ہیں، اس تلوار کی قیمت 200 ملین ڈالر ہے۔ سونے اور ہیروں سے تیارشدہ 25 گھڑیاں ٹرمپ اور ان کے گھر والوں کے لئے جن کی کل قیمت 200 ملین ڈالر ہے۔ علاوہ ازیں ہیرے اور جواہرات سے سجے 150سے زائد عبایہ بھی تحفے میں دیئے ہیں اور سعودی دارالحکومت ریاض میں واقع سب بڑی شاہراہ کا نام ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب کر دیا گیا ہے اور اس شاہراہ کے شروع میں ٹرمپ کا ایک مجسمہ رکھ دیا جائیگا۔

امریکا میں واقع مشہور مجسمہ آزادی کا ایک چھوٹا سا ہم شکل مگر سونے، ہیرے اور جواہرات سے تیار شدہ ایک ٹاور بھی ہے جسے ایک خاص سعودی طیارے کے ذریعے وائٹ ہاؤس منتقل کیا جائیگا۔ 800 ملین ڈالرکی قیمتی یاٹ کشتی جس کی لمبائی 125میٹر ہے اور یہ یاٹ دنیا کی سب سے لمبی ذاتی یاٹ ہے جس میں 80 کمرے اور 20 شاہی کمرے موجود ہیں اوران کمروں کے بیشتر اجزا سونے سے تیارکردہ ہیں۔ اس یاٹ کو امریکی بحریہ کے ذریعے امریکا روانہ کیا جائیگا۔ رپورٹ کے مطابق اس قدرقیمتی تحائف سعودی عرب نے پہلے کسی بھی صدرکو نہیں دیئے۔

سعودی فرمانروا کا اصرار تھا کہ یہ تحائف ٹرمپ کے ذاتی تحائف ہیں اور انہیں امریکا کے عجائب گھروں میں نہ رکھا جائے۔ ان تمام تحائف کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ 400 ارب ڈالرکے ہتھیاروں کی ڈیل کی ہے جودنیا میں طے پانے والی ہتھیاروں کی خرید و فروخت کی سب سے بڑی ڈیل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ سلمان کی شاہ خرچیاں صرف امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت اور ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے ہیں تاکہ شاہ سلمان اور اسی طرح آل سعود خاندان کی اقتدار پر گرفت مضبوط رہے۔

May ۲۸, ۲۰۱۷ ۰۳:۴۹ UTC
کمنٹس