• یمن میں ہیضہ اور وبائی امراض تشویش ناک

یمن کے ادارہ حفظان صحت اور میڈیکل ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ اسپتالوں اور طبی مراکز میں اب ہیضے کے مریضوں کو بھرتی کرنے کی جگہ ختم ہوچکی ہے کیونکہ اکثر طبی مراکز سعودی حملوں کے باعث تباہ ہوچکے ہیں-

العالم ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا ہے کہ ہر روز ہیضے کا شکار ہو کرمتعدد یمنی شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتےہیں جبکہ اپریل سے اب تک تقریبا دوہزار یمنی ہیضے کا شکار ہو کر جاں بحق ہوچکے ہیں- العالم کی رپورٹ کے مطابق ہیضے کے مریض اپنے علاج معالجے کے لئے سڑکوں پر بھٹک رہے ہیں اور ان میں جو بہت خوش قسمت ہیں انھیں ہی کسی کیمپ میں جگہ مل پاتی ہے تاکہ بعد میں کسی طبی مرکز میں منتقل کیا جا سکے اور یہی صورت حال یمن میں ہیضے کا شکار لاکھوں مریضوں کی ہے- اس رپورٹ کے مطابق شمالی یمن کا ہیدان علاقہ ہیضے میں مبتلا مریضوں کی مشکلات و مسائل کی ایک مثال ہے - آلودہ پانی اور کوڑوں کے انبار نے یمن کو ایک ایسے ملک میں تبدیل کر دیا ہے جہاں ہیضہ اور وبائی امراض پھیلتے ہی جا رہے ہیں- صاف پانی کی تلاش یمنی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے خاص طور سے ایسی حالت میں کہ پانی کے کنوئیں اور تالاب بری طرح آلودہ ہو چکے ہیں- امدادی اداروں نے اتنے بڑے پیمانے پر اور تیز رفتاری کےساتھ ہیضہ اور وبائی امراض پھیلنے پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور عالمی ریڈکراس نے بھی خبردار کیا ہے کہ تقریبا چار لاکھ سے زیادہ یمنی شہری ہیضے اور مہلک وبائی بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں-  اس درمیان امن کے لئے سرگرم متعدد شخصیتوں نے یمن پر سعودی حملوں کے خلاف واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کیا ہے- الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امن کے لئے فعال شخصیتوں نے جمعے کو واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے کے سامنے اکٹھا ہو کر یمن کے بےگناہ عوام اور سعودی عرب کے العوامیہ علاقے کے شہریوں پر آل سعود کے مظالم و جرائم کا سلسلہ جاری رہنے پر زبردست احتجاج کیا اور یہ سلسلہ جلد از جلد بند کرنے کا مطالبہ کیا- مظاہرین ، سعودی عرب شرم کرو، آل سعود شرم کرو ،، سزائے موت بند کرو اور العوامیہ کو ڈھانا بند کرو جیسے نعرے لگا رہے تھے - سعودی عرب مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر مسلسل حملے کر رہا ہے ان وحشیانہ حملوں اور بمباری کے نتیجے میں یمن کے اسکول ، اسپتال اور دیگر بنیادی تنصیبات پوری طرح تباہ ہوچکی ہیں اور تقریبا چالیس ہزاریمنی شہری جاں بحق اور زخمی ہوچکے ہیں-

Aug ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۰:۲۰ UTC
کمنٹس