بثینہ نے اپنی آنکھ کھول کر دنیا کی آنکھیں کھول دی۔

بثینہ نامی یہ یمن کی کم سن بچی ہے جس کے تمام گھر والے گزشتہ دنوں صنعا کے جنوب میں سعودی عرب کی بمباری میں مارے گئے۔ خود یہ بچی بھی بہت زیادہ زخمی اور نازک حالت میں ملبے کے نیچے سے باہر نکالی گئی۔ اسکے سر و صورت پر کئی جگہ شکستگی کے آثار نمایاں تھے۔ جس وقت ایک رپورٹر اس سے بات کرنے کے لئے اپنے کیمرے کے ساتھ اس کے پاس گیا تو اس نے اسے دیکھنے کے لئے اپنی سوجی ہوئی آنکھ کی پلکوں کو اپنے ہاتھ سے کھولا اور یہ دردناک لمحہ اس رپورٹر کے کیمرے میں قید ہو کر دنیا والوں تک پہونچ گیا۔سوشل میڈیا پر دل کو چھو لینے والے اس فوٹو کا آنا تھا کہ ایک زلزلہ سا بپا ہو گیا اور وہ دنیا بھر میں سماج کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں انٹرنیٹ صارفین کی توجہ کا مرکز بن گیا۔جس کے بعد ہزاروں لوگوں نے اس بچی سے اظہار ہمدردی اور سعودی عرب کے وحشیانہ جنگی جرائم کی مذمت کرنے کے لئے بثینہ کے انداز میں اپنا فوٹو لے کر سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔

 

ٹیگس

Sep ۰۵, ۲۰۱۷ ۱۳:۳۸ Asia/Tehran
کمنٹس