Sep ۰۹, ۲۰۱۷ ۱۴:۴۲ Asia/Tehran
  • قطر نے سعودی عرب اور تین دیگر عرب ملکوں کے دعوؤں کو مسترد کردیا

قطر نے سعودی عرب اور اس کے ساتھ تین دیگر عرب ملکوں کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ دوحہ دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے

قطر کا بائیکاٹ کرنے والے سعودی عرب سمیت چار عرب ملکوں نے اپنے تازہ بیان میں دعوی کیا ہے کہ دوحہ سعودی عرب، بحرین متحدہ عرب امارات اور مصر کے داخلی معاملات میں مداخلت اور دہشت گردوں کی مالی حمایت کرتا ہے - قطر کی حکومت نے ان چار عرب ملکوں کے اس دعوے کو یکسر مسترد کردیا اور کہا ہے کہ اس قسم کے الزامات قطر کی اصولی پالیسی کی اساس سے تضاد رکھتے ہیں - قطر کی وزارت خارجہ میں پرس شعبے کے سربراہ احمد بن سعید الرمیحی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی خبریں بھی بے بنیاد ہیں کہ قطر نے ان چار عرب ملکوں کی تیرہ شرطوں کو قبول کرلیا ہے- ان کا کہنا تھا کہ قطر صرف انہی مطالبات کو تسلیم کر سکتا ہے جو اس کے اقتدار اعلی اور قومی وقار کے منافی نہ ہوں - کویت کے امیر صباح الاحمد جابر الصباح نے بھی کہا ہے کہ قطر کی حکومت نے چارعرب ملکوں کی طرف سے مذاکرات کے لئے پیش کی گئی درخواستوں کا مثبت جواب دیا ہے - اس درمیان بعض عرب ذرائع نے کہا ہے کہ قطر کے امیر نے سعودی عرب کے ولیعہد سے ٹیلی فونی گفتگو میں چار عرب ملکوں کے ساتھ مذاکرات اور ان کے مطالبات پر غور کرنے کے لئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے- اسکائی نیوز عربی کے مطابق سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے امیر قطر کی جانب سے مذاکرات کی آمادگی کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے اور وہ اس سلسلے میں تفصیلات تین دیگر عرب ملکوں یعنی متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعد بیان کریں گے - دوسری جانب قطر کی نیوز ایجنسی نے بھی خبردی ہے کہ یہ ٹیلی فونی گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وساطت اور ہم آہنگی سے انجام پائی ہے اور قطر کے امیر نے سعودی ولیعہد کی اس درخواست کو قبول کرلیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قطر اور چار عرب ملکوں کے اختلافات کا جائزہ لینے کے لئے دو نمائندوں کو مقرر کیاجائے - قطر کی نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ امیر قطر نے یہ درخواست اس شرط پر قبول کی ہے کہ کوئی بھی اقدام اسی صورت میں قابل قبول ہوگا جب قطر کے اقتدار اعلی کو کوئی نقصان نہ پہنچے - اس درمیان سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی واس نے سعودی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدارکے حوالے سے خبردی ہے کہ قطر نے اس ٹیلی فونی گفتگو کے بعد بات چیت کے مضمون میں تحریف کردی ہے اور باوجود اس کے کہ یہ ٹیلی فونی رابطہ قطر کی جانب سے انجام پایا تھا دوحہ کا کہنا ہے کہ یہ ٹیلی فونی گفتگو امریکی صدر ٹرمپ کی وساطت سے انجام پائی ہے-یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے امیر کویت کے ساتھ مشترکہ پرس کانفرنس اور قطر کے بحران کے بارے میں ان سے بات چیت کرنے کے فورا بعد قطر کےامیر تمیم بن حمد بن خلیفہ آل ثانی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی-

ٹیگس