• ریفرنڈم عراقی آئین سے متصادم ہے، عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی

عراقی وزیراعظم نے ایک بار پھر کہا ہے کہ کردستان کی علیحدگی کے لئے ریفرنڈم کا انعقاد عراقی آئین کے سراسر خلاف ہے۔

 عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے عراق کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے یان کوبیش سے ملاقات میں کہا ہے کہ عراقی کردستان میں ریفرنڈم کا انعقاد عراق کے آئین کے خلاف ہے-

عراقی وزیراعظم نے کہا کہ عراق کے لئے اس وقت پہلی ترجیح دہشت گردوں کے خلاف جنگ اور دہشت گردوں کے قبضے سے عراق کی مکمل آزادی ہے-

عراق کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے بھی عراق کے تازہ سیاسی تنازعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اربیل اور  بغداد کے درمیان مذاکرات کی ضروت پر زور دیا-

یان کوبیش نے جمعے کو عراقی صدر فواد معصوم سے بھی ملاقات کی تھی جس میں عراقی کردستان میں مجوزہ ریفرنڈم کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا-

دوسری جانب اربیل میں ریفرنڈم کے حامی کردوں نے ایک ریلی نکالی جس کے دوران انہوں نے اپنے ہاتھوں میں صیہونی حکومت اور امریکا کے پرچم لے کر ریفرنڈم کے لئے اسرائیلی حمایت کی تائید کی-

رویٹرز نے خبر دی ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب اربیل میں کردوں نے صیہونی حکومت کا پرچم اپنے ہاتھوں میں اٹھایا ہے۔ گذشتہ ہفتے بھی عراقی کردستان میں ریفرنڈ م کے حامی کردوں نے اپنے ہاتھوں میں صیہونی حکومت کا پرچم اٹھا کرایک ریلی نکالی تھی-

اس درمیان عراق کے روزنامہ کل الاخبار نے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ عراقی کردستان کی علیحدگی سے متعلق ریفرنڈم کے لئے اسرائیل کی حمایت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور ریفرنڈم کرانے پر عراقی کردستان کی مقامی انتظامیہ کے سربراہ مسعود بارزانی کا اصرار اپنے ہی سر میں گولی مار لینے کے مترادف ہے-

اس سے پہلے اسرائیلی وزیرقانون ایلیت شاکید کا یہ بیان سامنے آچکا ہے کہ عراقی کردستان کی عراق سےعلیحدگی اسرائیل اور مغرب کے فائدے میں ہو سکتی ہے-

Sep ۲۳, ۲۰۱۷ ۱۴:۰۸ UTC
کمنٹس