• روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد سات لاکھ سے تجاوز کرگئی

میانمار میں فوج اور انتہا پسندوں کے تشدد سے جان بچا کر بنگلادیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد سات لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔

 اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امداد او سی ایچ اے  نے بتایا ہے کہ جمعے تک میانمار سے جان بچا کر بنگلادیش پہنچنے والے  روہنگیا مسلمانوں کی تعداد سات لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے اور انہیں فوری طور پر امداد پہنچانے کی ضرورت ہے۔ او سی ایچ اے نے میانمار سے مسلمانوں کے جبری انخلا کو حالیہ عشرے کی سب سے بڑی اجتماعی ہجرت قرار دیا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجاریک نے بتایا ہے کہ حکومت بنگلا دیش کی درخواست پر عالمی ادارہ پناہ گزیناں نے امداد رسانی کا کام تیز کردیا ہے اور روہنگیا پناہ گزینوں میں بڑی تعداد میں کمبل تقسیم کیے جارہے ہیں تاکہ انہیں موسمی حالات سے بچایا جاسکے۔
 عالمی ادارہ صحت نے بھی بنگلادیش اور میانمار کے سرحدی  علاقوں میں پھنسے روہنگیا مسلمانوں کی صورتحال کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ سیکورٹی صورتحال کے وجہ سے بعض علاقوں میں امداد رسانی کا امکان نہیں ہے جس کی وجہ سے روہنگیا مسلمانوں کو انتہائی سخت حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
 درایں اثنا ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ میانمار کے صوبہ راخین میں مسلمانوں کے گھروں کو آگ لگائے جانے کے تازہ واقعات سامنے آئے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی تازہ تریں تصاویر میں صوبہ راخین کے دیہی علاقوں سے دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
 میانمار کے مسلم آبادی والے صوبے راخین میں پچیس اگست سے جاری فوجی آپریشن اور انتہا پسند بدھسٹوں کے منظم حملوں میں چھے ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان جاں بحق اور آٹھ ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا مسلمان پڑوسی ملکوں خاص طور سے بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں جنکی تعداد سات لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔
 میانمار کے صوبے راخین کے دس لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو سن دوہزار بارہ سے فوج اور انتہا پسند بدھ ملیشیا کے حملوں کا سامنا ہے اور حکومت میانمار نے ان کی شہریت بھی منسوخ کردی ہے۔

Sep ۲۳, ۲۰۱۷ ۱۷:۴۸ UTC
کمنٹس