• کشتی کے سانحے میں مزید روہنگیا مسلمان جاں بحق

بنگلا دیش کے قریب کشتی ڈوب جانے کے نتیجے میں مزید روہنگیا مسلمان جاں بحق ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب بچوں کے عالمی ادارے یونیسیف نے پناہگزین کیمپوں میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کی صورتحال کو انتہائی المناک قرار دیا ہے۔

میانمار سے جبری کوچ پر مجبور ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کی کشتی بنگلادیش کے قریب دریائے نیف میں ڈوب گئی جس کے نتجے میں مزید بارہ روہنگیا مسلمان جاں بحق اور متعدد لاپتہ ہوگئے۔ریسکیو حکام نے بتایا ہے کہ کشتی کے سانحے میں جان بحق ہونے والے گیارہ روہنگیا مسلمانوں کی شناخت کرلی گی ہے۔ جبکہ لاپتہ ہونے والوں کی تلاش کی جاری ہے۔
اس سے پہلے بھی درجنوں روہنگیا مسلمان کشتیوں کے ذریعے بنگلا دیش پہنچنے کی کوشش میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ بنگلادیش کے پناہ گزین کیمپوں میں مقیم نوے فی صد سے زیادہ روہنگیا مسلمان شدید بھوک کا شکار ہیں اور انتہائی ابتر حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔
بنگلادیش میانمار سرحد پر تعینات یونیسیف کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ پناہ گزین کیمپوں میں مقیم روہنگیا مسلمان چوبیس گھنٹے میں ایک بار کھانا کھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ لاکھ روہنگیا عورتوں اور بچوں کو فوری طور پر غذائی امداد کی ضرورت ہے تاکہ انہیں بھوک کی شدت سے نجات دلائی جاسکے۔
اقوام متحدہ نے بھی چند روز قبل اپنی ایک رپورٹ میں روہنگیا مسلمانوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت میانمار کی جانب سے مسلم آبادی والے صوبے راخین تک رسائی نہ دینا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔
علاقائی اور عالمی انتباہات کے باوجود صوبہ راخین میں فوج اور انتہا پسند بدھسٹوں کے ہاتھوں میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور آبادیوں کو جلائے جانے کی خبریں تواتر کے ساتھ موصول ہورہی ہیں جس کے نتیجے میں روہنگیا مسلمانوں کی بنگلادیش کی جانب ہجرت میں اضافہ ہورہا ہے۔
میانمار کے مسلم آبادی والے صوبے راخین میں فوج اور انتہا پسند بدھسٹوں کے تازہ حملوں میں چھے ہزار سے زائد مسلمان جاں بحق اور آٹھ ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق حکومت میانمار کے ظلم و ستم سے جان بچا کر بنگلادیش پہنچے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد آٹھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کو سن دوہزار بارہ سے سرکاری فوج اور انتہا پسند بدھسٹوں کے منظم حملوں کا سامنا ہے جبکہ حکومت میانمارنے مسلمانوں کو شہری حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔

Oct ۰۹, ۲۰۱۷ ۱۱:۱۵ UTC
کمنٹس