• سعودی بمباری اورمحاصرہ، یمن کو قحط کا سامنا

یمن پر سعودی حملوں اور محاصروں کی وجہ سے 7 میلین انسانوں کو شدید ترین قحط کا سامنا ہے۔

برطانوی اخبار گارڈین کا کہنا ہے کہ سعودی اتحادی افواج کی بمباری اور محاصرے کی وجہ سے یمن بھر میں 7 میلین انسان قحط کا شکارہوچکے ہیں۔

روزنامہ گارڈین نے لکھا ہے کہ یمن میں  4 لاکھ 60 ہزار بچوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔ اس ملک میں صرف 45 فیصد ہسپتال کام کررہے ہیں باقی ہسپتال یا تو سعودی لڑاکا طیاروں کے حملوں میں تباہ ہوچکے ہیں یا طبی ساز و سامان نہ ہونے کی وجہ سے بند ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے سینیئر اہلکار نے سعودی اتحاد سے یمن کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ اس اقدام سے یمن کو بدترین قحط کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق انڈر سیکریٹری جنرل مارک لوکاک نے یمن کے خلاف کارروائیوں میں مصروف اتحاد پر زور دیا کہ وہ یمن کی ناکہ بندی ختم کرے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یمن کے بارے میں بریفنگ دینے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مارک لوکاک کا کہنا تھا کہ انھوں نے کونسل کو آگاہ کیا ہے کہ جب تک یمن کی ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی اس وقت تک قحط ختم نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکہ کی ایماء پر مارچ دو ہزار پندرہ سے مغربی ایشیا کے غریب ترین اسلامی ملک یمن کو جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے جس کا مقصد اس ملک میں اپنی کٹھ پتلی حکومت کو بحال کرنا ہے۔

یمن پر سعودی جارحیت کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد شہید اور لاکھوں بے گھر اور متاثرہوچکے ہیں۔

 

Nov ۱۴, ۲۰۱۷ ۰۶:۲۲ UTC
کمنٹس