• یمن میں سعودی عرب کی شکست کی الٹی گنتی شروع

اقوام متحدہ نے ایک بار پھر یمن کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کا محاصرہ ختم کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجاریک نے پیر کی رات تاکید کی ہے کہ انسان دوستانہ ایجنسیوں کو یمن میں بنیادی ضروریات کو پورا کرنے اور امداد پہنچانے کے لئے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں تک دسترسی کی اشد ضرورت ہے۔

انھوں نے یمن کی صورت حال کو المناک قرار دیا اور کہا کہ یمنی عوام کو غذائی اشیا،ایندھن اور دواؤں کی اشد ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ نے گذشتہ ہفتے کو بھی یمن کا محاصرہ ختم کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔

یمن میں بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسیف کی نمائندہ  میریٹیکسل ریلانو نے بھی یمن کی صورت حال کو المیہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یمن میں لاکھوں افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔

عالمی ریڈکراس کمیٹی نے بھی یمن کی تمام سرحدوں کو کھولے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے تاکہ اس ملک میں ضرورت مند لوگوں کو انسان دوستانہ امداد فراہم کی جاسکے۔

دریں اثنا یمن کی ایک نیوز ویب سائٹ نے جنگ یمن میں سعودی عرب کی مسلسل شکست اور سعودی اتحاد کی ابتر صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ سعودی اتحاد کی موجودہ صورت حال یمن میں سعودی عرب کی مکمل شکست اور یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں کی کامیابی کی علامت ہے۔النجم الثاقب ویب سائٹ نے یمن پر سعودی جارحیت کی شکست کی الٹی گنتی کا آغاز کے زیرعنواں ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ تمام شواہد و علامات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ مختلف سیاسی، فوجی اور اقتصادی شعبوں میں سعودی عرب کو مکمل شکست ہو رہی ہے۔

اس ویب سائٹ نے توازن یمنیوں کے حق میں تبدیل ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اندرونی و بیرونی سطح پر سعودی اتحاد اور اس کے آلہ کاروں کی مسلسل ناکامی نے یمنی عوام کی کامیابی کو ایک ناقابل اجتناب حقیقت میں تبدیل کر دیا ہے۔

اس ویب سائٹ نے جنگی محاذوں پر یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں کی پیش قدمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جنگی طیارے کو مار گرایا جانا، سعودی عرب کے ایرپورٹ اور فوجی مراکز کو یمنی فوج کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کا نشانہ بنائے جانے اور اسی طرح بکتربند گاڑیوں کی تباہی اور یمن کے صوبوں لحج اور تعز میں سعودی اتحاد کے فوجیوں کے بھاری جانی نقصان سے سعودی عرب کی بری طرح سے شکست کا پتہ چلتا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن کو وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنا رکھا ہے جن میں اب تک تیرہ ہزار سے زائد یمنی شہری شہید اور دسیوں ہزار دیگر زخمی اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ اس ملک کے عوام کو محاصرے کی بنا پر غذائی اشیا اور دواؤں کی بھی شدید قلت کا سامنا ہے۔

 

Nov ۱۴, ۲۰۱۷ ۱۶:۱۹ UTC
کمنٹس