• عالمی وحدت اسلامی کانفرنس سے مقررین کا خطاب

تقریب مذاہب اسلامی کے عالمی فورم کے جنرل سیکریٹری نے کہا ہے کہ اب اسلامی اقوام کی بیداری کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے اور کسی مزاحمت اور روک ٹوک کے بغیر اسلامی ملکوں پر دشمنان اسلام کے حملوں کا دور ختم ہو گیا ہے۔

تقریب مذاہب اسلامی کے عالمی فورم کے جنرل سیکریٹری آیت اللہ محسن اراکی نے منگل کو تہران میں اکتیسویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کا پیغام یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ سامراج کی ثقافتی یلغار اور دشمنوں کے ہر طرح کے فوجی اور اقتصادی حملوں کے مقابلے میں متحد ہے-

انہوں نے مغربی ایشیا کو دنیا کا دل قرار دیتے ہوئے کہا کہ عراق، شام اور لبنان کے عوام نے ایرانی عوام اور افغانستان، پاکستان نیز دیگر ملکوں کے مجاہدین کے تعاون اور مدد سے متحد ہو کر عالمی سامراج اور داعش و دیگر دہشت گرد گروہوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا-

تقریب مذاہب اسلامی کے عالمی فورم کے جنرل سکریٹری نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ آج ہمیں نئے اسلامی تہذیب کی تعمیر نو کی ضرورت ہے، کہا کہ داعش کی شکست صرف ایک دہشت گرد گروہ کی شکست نہیں تھی بلکہ یہ پورے عالمی سامراج کی شکست تھی کیونکہ عالمی سامراج نے ان دہشت گردوں کو حقیقی اسلام کے خلاف اکٹھا کیا تھا-

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شام کے مفتی اعظم نے بھی کہا کہ صراط مستقیم کا آغاز ہو چکا ہے اور ہم بیت المقدس تک پہنچ کر رہیں گے- شام کے مفتی اعظم شیخ احمد بدرالدین حسون نے کہا کہ ہم آج یہ خوشخبری دے رہے ہیں کہ عراق کے شہر موصل اور شام کے شہروں دیرالزور اور حلب کے بعد تہران سے موصل، بغداد، دیرالزور، حلب، حماہ، دمشق، بیروت اور جبل عامل تک کا راستہ کھل گیا ہے اور انشاء اللہ یہ راستہ بیت المقدس پر جا کر ختم ہو گا-

شام کے مفتی اعظم نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ جو راستہ کھلا ہے وہ صراط مستقیم ہے اور اس راستے میں شام اور ایران کو فتح نصیب ہوئی ہے کہا کہ ایسا ایران کامیاب ہوا ہے کہ جس کی پالیسی بدستور مظلوموں کی حمایت کرنا ہے-

عراق کی مجلس اعلائے اسلامی کے سربراہ شیخ ہمام حمودی نے بھی عالمی وحدت اسلامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سبھی اسلامی اقوام کو چاہئے کہ وہ دین اسلام کی اعلی تعلیمات پر تکیہ کر کے نئی اسلامی تہذیب کے قیام کی کوشش کریں-

انہوں نے مسلم نوجوانوں کو ان کی اسلامی شناخت و پہچان سے دور کرنے کی دشمنوں کی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج اسلام کے خلاف ایک پیچیدہ جنگ چھیڑ دی گئی ہے جس کے پس پردہ صیہونی حکومت کے ہاتھ کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے-

حزب اللہ لبنان کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے عالمی وحدت اسلامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام کو چاہئے کہ استقامت کے میدان میں وہ حزب اللہ کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار دے جس نے ایک تحریک کی حیثیت سے مختصر سے عرصے میں استقامت کی غیرمعمولی مثال قائم کی ہے-

شیخ نعیم قاسم نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر بھی تاکید کی- انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کو اسلامی ملکوں کے لئے ایک کامیاب رول ماڈل قرار دیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا نظم و نسق کامیابی کے ساتھ چلائے جانے کا شاندار تجربہ مسلمانوں کی زندگی اور اسلامی تمدن پر اچھے اور گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے-

واضح رہے کہ اکتیسویں عالمی وحدت اسلامی کانفرنس منگل کو تہران میں شروع ہوئی ہے جس میں ایران اور دنیا کے مختلف ملکوں کے پانچ سو علما، مفکرین اور دانشور شریک ہیں جبکہ یہ کانفرنس جمعرات تک جاری رہے گی-

Dec ۰۵, ۲۰۱۷ ۱۴:۱۶ UTC
کمنٹس