• عالمی اسلامی وحدت کانفرنس کی جانب سے امریکی صدر کے فیصلے کی مذمت

سالانہ عالمی اسلامی وحدت کانفرنس کی اختتامی تقریب گزشتہ رات تہران میں منعقد کی گئی جس میں ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر برائے بین الاقوامی امور علی اکبر ولایتی، عراقی وزیر خارجہ ابراھیم الجعفری، ایران کے بین الاقوامی فورم برائے مذہبی ہم آہنگی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ محسن اراکی، سنیئر ایرانی مذہبی رہنما آیت اللہ تسخیری سمیت 500 ملکی اور غیرملکی مہمان بالخصوص نامور شیعہ اور اہل سنت علمائے کرام شریک تھے۔

اختتامی اعلامیہ میں اس بات پر زور دیا کہ مسجدالاقصی کے دفاع کے لئے دنیائے اسلام کو نئی فلسطینی انتفاضہ کے ضرورت ہے۔

اختتامی اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ خطے اور دنیا میں نئی امریکی پالیسی اور فلسطین مخالف صہیونی عزائم کا مقابلہ کے لئے سب کو ایک ہونا ہوگا اور اس مقصد کے لئے دنیا کے تمام امن اور حریت پسند ممالک کی حمایت ناگزیر ہے۔

شرکا نے اسلامی تہذیب کے فروغ کو امت مسلمہ کی ساکھ کی بحالی کے لئے اہم قرار دیا جس تمام مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کو مزید طاقت ملے گی۔

کانفرنس کے مندوبین نے اسلامی نوجوانوں کے تحفظ اور تکفیریت کی سوچ کے خاتمے کے لئے مغرب کی جانب سے ثقافتی یلغار کا مقابلہ کرنے پر اتفاق کیا۔

شرکا نے اسلامی وحدت اور عالم اسلام کے مسائل کے خاتمے کے لئے رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے اہم کردار کا شکریہ ادا کیا اور اس حوالے سے حکومت ایران بالخصوص ایران کے بین الاقوامی فورم برائے مذہبی ہم آہنگی کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

 

Dec ۰۸, ۲۰۱۷ ۰۷:۴۴ UTC
کمنٹس