• قطر اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے علل و اسباب

قطر کے ساتھ سعودی عرب اور اس کے تین ساتھی ملکوں کے درمیان کشیدگی اور سفارتی تعلقات کو منقطع ہوئے سات مہینے کاعرصہ گذر جانے کے بعد بھی نہ صرف یہ کہ اس کشیدگی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے بلکہ قرائن و شواہد سے کشیدگی میں اضافے کی نشاندھی ہوتی ہے۔

قطر کے ساتھ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی کشیدگی اور سفارتی تعلقات کو ختم کردینے کا واقعہ گذشتہ برس پانچ جون کو پیش آیا تھا۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملکوں نے قطر پر الزام لگایا تھا کہ دوحہ عرب سوچ اور نظریات کے ساتھ غداری کر رہا ہے۔اس کے علاوہ ان ملکوں نے قطر پر دہشت گردی کی حمایت کا بھی الزام لگایا تھا۔
اب قطر اور ان چاروں عرب ملکوں کے درمیان کشیدگی کا تازہ دور اس بات کو لے کر شروع ہوا ہے کہ یہ ممالک قطر کو ہر سطح پر نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لئے انہوں نے قطر پر طرح طرح کی پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں۔
قطر کے وزیرخارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک کا بائیکاٹ کرنے والے چارعرب ملکوں کے اقدامات سے قطر کے عوام کو مادی اور معنوی نقصان پہنچ رہا ہے اور ان ملکوں نے قطر کے عوام کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے وزیرمملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے دعوی کیا ہے کہ دوحہ کی ہی وجہ سے یہ بحران پیدا ہوا ہے اور قطر خود اپنی پالیسیوں کی وجہ سے الگ تھلگ پڑگیا ہے۔
درایں اثنا سعودی عرب کی رائل کورٹ کے مشیر سعود القحطانی نے ایک بار پھر بالادستی کی سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ قطر کے خلاف کب سے پابندیاں لگی ہیں ہمیں دن شمار کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ قطر کا مسئلہ تو بہت ہی معمولی مسئلہ ہے۔
اس درمیان متحدہ عرب امارات کے جنگی طیارے نے قطر کے خصوصی اقتصادی زون کی فضا میں پرواز کی ہے تا کہ وہ قطر کو مشتعل کرے اور یہ ظاہر کرے کہ قطر، متحدہ عرب امارات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔
متحدہ عرب امارات کے اس اقدام کی اقوام متحدہ میں قطر کی مستقل مندوب نے سلامتی کونسل میں شکایت کی ہے۔
در اصل قطر کے ساتھ سعودی عرب اور اس کے تین دیگر ساتھی عرب ملکوں کی کشیدگی جاری رہنے کی وجہ یہ ہے کہ قطر اپنے آپ کو سعودی عرب کا تابع نہیں سمجھتا لیکن سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی کوشش ہے کہ وہ دوحہ پر دباؤ ڈال کر یہ ثابت کریں کہ قطر ایک چھوٹا ملک ہے اور وہ اسی وقت اپنے آپ کو باقی رکھ سکتا ہے جب وہ ریاض اور اس کے اتحادی ملکوں کی باتوں اور پالیسیوں کا ساتھ دے گا۔
قطر کے ساتھ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملکوں کی کشیدگی کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان ملک کی داخلہ اور خارجہ پالیسی میں کوئی فرق نہیں سمجھتے۔ وہ جس طرح ملک کے اندر زور و زبردستی کے ذریعے اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے ہی خاندان کے دسیوں شہزادوں کو زبردستی گرفتار کر رکھا ہے اسی طرح وہ خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی تحکمانہ انداز اپنانے کی کوشش کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ قطر جیسے چھوٹے عرب ممالک ان کے تابع فرمان بن کر رہیں۔

Jan ۱۲, ۲۰۱۸ ۱۶:۳۰ UTC
کمنٹس