• سعودی عرب فائرنگ: سعودی شاہ اور ولیعہد امریکی فوجی چھاونی منتقل

سعودی عرب میں شاہی محل کے قریب زبردست فائرنگ ہوئی جبکہ بعض خبری ذرائع نے ویڈیو کلپ میں شاہی محل کے قریب دھماکے اور فائرنگ کی ویڈیو بھی وائرل کی ہے۔

سعودی عرب سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ ہونے والی فائرنگ کے بعد شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولیعہد محمد بن سلمان شاہی محل سے بھاگ گئے ہیں اور العوجا شاہی محل کا سعودی فورسز نے  چاروں جانب سے محاصرہ کر لیا ہے۔

بعض رپورٹوں کے مطابق شاہ سلمان بن عبد العزیزاور ولیعہد محمد بن سلمان کو ریاض کے اطراف میں امریکہ کے زیر کنٹرول فوجی چھاونی میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں ممکنہ طور پر بغاوت ہو گئی ہے۔

فھد نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سعودی شہزادے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ کل رات کا واقعہ بغاوت کی طرح تھا، تاہم سعودی ولیعہد اسے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سعودی عرب میں سیکیورٹی فورسز نے کئی گھنٹوں کی خاموشی کے بعد کہا کہ شاہی محل کے قریب پہنچنے والے ایک مشتبہ ڈرون کو مار گرایا ۔ 

قابل غور بات یه ہے کہ فائرنگ کے واقعے سے سعودی شہریوں خاص طور سے آل سعود خاندان میں ممکنہ بغاوت کے بارے میں گہری تشویش پیدا ہو گئی ہے گویا سعودی عرب میں سب کے سب سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کا تختہ الٹنے کے لئے فوجی اقدام یا ہتھیار اٹھانے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔

سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی دھونس دھمکی کے ذریعے اپنے ملک کے سیاسی میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کے آمرانہ اقدامات آل سعود خاندان میں انتشار اور اقتدار کی جنگ کی شدت اختیار کرجانے کا باعث بنی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں ہر وقت شاہی خاندان میں بغاوت کا خدشہ لگا رہتا ہے جس کے پیش نظر ان کی راتوں کی نیندیں بھی اڑی رہتی ہے۔

شاہی خاندان میں محمد بن سلمان کے جارحانہ اقدامات  اور شہزادوں کو اقتدار سے ہٹانے نیز انھیں گرفتار اور قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کرنے اور اسی طرح فلسطینی امنگوں سے ان کی روگردانی اس بات کا باعث بنی ہے کہ محمد بن سلمان کو اسرائیل کا ایجنٹ سمجھا جانے لگا ہے اور اندرونی طور پر بھی ان کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یمنی عوام کے خلاف ان کی جنگ و جارحیت بھی ان کی مخالفت بڑھنے کا سبب بنی ہے۔

اس بیچ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاہی محل کے قریب فائرنگ کا وقعہ محمد بن سلمان کو قریبی آلہ کاروں کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ بھی ہو سکتا ہے اس لئے کہ اس بہانے سے محمد بن سلمان، سیکورٹی کا دائرہ وسیع کر کے گرفتاریوں اور سرکوب گرانہ پالیسیوں کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں تاکہ تخت شاہی پر ان کے بیٹھنے کی راہ ہموار ہو سکے کہ جس کا چرچا بھی آج کل بہت زیادہ ہو رہا ہے۔

چنانچے یہ ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب میں سیکورٹی کی صورت حال ایسی ہی بنی ہوئی ہے کہ ایک ڈرون سے شاہی محل کی چولیں ہل اٹھی ہیں۔

ٹیگس

Apr ۲۲, ۲۰۱۸ ۰۹:۳۵ Asia/Tehran
کمنٹس